تک کہ جمع نہ ہوجائے پورا غلام اس کی ملکیت میں،پس اگر مراد لیا اس نے ان دونوں میں سے ایک سے دوسرے کو تو عمل کیا جائے گا اس کی نیت پر دونوں جگہوں میں ،لیکن اس جگہ میں جس میں تخفیف ہو اس پر تو نہیں تصدیق کی جائے گی قضا میں اور تصدیق کی جائے گی دیانۃً۔
------------------------------
تشریح:-ماقبل میں بتایا کہ اتصال سببی کی دو قسمیں ہیں یہا ںان قسموں کو بیان کررہے ہیں ،پہلی قسم حکم کا علت کے ساتھ اتصال ،یعنی علت اور معلول کے درمیان کا اتصال ،جیسے ملک اور شرا،شراعلت ہے اور ملک معلول (حکم ) ہے ، علت اور معلول کے درمیان اتصال مضبوط ہوتا ہے ،لہٰذا استعارہ دونوں طرف سے جائز ہے یعنی علت بول کر معلول بھی مراد لے سکتے ہیں اور معلول بولکر علت بھی ،اور سبب وسبب میں اتصال کمزور ہوتا ہے ،لہٰذا ان میں دونوں طرف سے استعارہ درست نہیں ،اول میں اتصال مضبوط اور ثانی میں اتصال مضبوط نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ شریعت میں علت اس کو کہتے ہیں جو کسی حکم کے لئے وضع کی گئی ہو ،اسی لئے اگر کسی جگہ حکم نہ متصور ہوتو علت بھی مشروع نہ ہوگی، جیسے اگر کسی جگہ ملک متصور نہ ہوتو بیع بھی مشروع نہ ہوگی، پس علت کی طرف حکم کا وجود اور وجوب دونوں منسوب ہوتے ہیں یعنی علت ہی سے حکم موجود بھی ہوتا ہے اور واجب بھی ہوتا ہے ،معلوم ہوا کہ علت و معلول (حکم )کے درمیان اتصال قوی ہے ،جب بھی علت ہوگی تو حکم بھی ہوگا اور جب بھی حکم ہوگا تو علت بھی ہوگی ،کیونکہ علت حکم ہی کے لئے مشروع ہوتی ہے اور حکم علت ہی سے ثابت ہوتا ہے،تو دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں ،تو دونوں میں اتصال مضبوط ہوا__ اور سبب ومسبب میں یہ بات نہیں ہے، کیونکہ مسبب سبب کا محتاج ہے، لیکن سبب کو مسبب کی حاجت نہیں ہے،یعنی مسبب کے پائے جانے کے لئے تو سبب کی ضرورت ہے مگر سبب کے پائے جانے پر مسبب کا پایا جانا ضروری نہیں ہے ،تو ایک طرف سے احتیاج ہوئی لہٰذا سبب بولکر مسبب مراد لینا تو صحیح ہے مگر مسبب بولکر سبب مراد لینا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ استعارہ کی حقیقت یہ ہے کہ ملزوم بول کر لازم مراد لیا جائے ، نہ کہ لازم بول کر ملزوم ، پس جب مسبب سبب کا محتاج ہے نہ کہ سبب مسبب کا تو مسبب محتاج اور سبب محتاج الیہ ہوا ، اور محتاج لازم ہوتا ہے، اور محتاج الیہ ملزوم ہوتا ہے ، لہٰذا ملزوم یعنی سبب بول کر لازم یعنی مسبب مراد لینا صحیح ہے ، اور مسبب بول کر سبب مراد لینا صحیح نہیں ہے، مگر جہاں مسبب ایسا ہو جو سبب کے ساتھ خاص ہوتو وہاں سبب بولکر مسبب مراد لے سکتے ہیں جیسے انی ارانی اعصر خمرا - میں خمر سے مراد انگور ہے تو خمر مسبب اور انگور سبب ہے ، اورمسبب (خمر )بولکر سبب (انگور )مراد لیا، کیونکہ یہاں مسبب سبب کے ساتھ خاص ہے یعنی شراب بغیر انگور کے نہیں بنتی ہے۔
طرفین سے استعارہ کی مثال:-مصنف اس پر ایک مسئلہ متفرع کررہے ہیں ،اس سے پہلے بطور تمہید کے کہتے ہیں کہ اگر کسی نے کہا ان اشتریت عبداً فھو حر - اگر میں غلام کو خریدوں تو وہ آزاد ہے،پس اس