جواب :معارضہ میں اگرچہ بظاہر معلل کی دلیل کو تسلیم کرنا ہے ، مگر حقیقت میں دلیل کو باطل کرنا ہے ، اس لئے کہ دلیل لازم اور مدعی ملزوم ہے اور ملزوم کا ابطال لازم کے ابطال کو مستلزم ہے ، لہٰذا معارضہ میں بھی دلیل ہی باطل ہوئی ، اور مناقضہ میں تو دلیل باطل ہوئی ہی ہے ، لہٰذا دونوں میں کوئی تعارض نہ ہوا۔ (ایضاح الحسامی)
پھرپہلی قسم جس کا دوسرانام قلب بھی ہے اس کی دوقسمیںہیں،(۱)علت کو پلٹ کرحکم کردینا اور حکم کو پلٹ کرعلت کر دینا (۲)علت کو اس طرح پلٹ دیناکہ مُسْتَدِلّ کے دعوی کے لئے مُثْبِت ہونے کے بجائے اس کے خلاف پر دَالّ بن جائے ۔
قلب کی پہلی قسم قلب الاناء سے ماخوذ ہے،قلب کی حسی مثال ایسی ہے جیسے بر تن کے اوپر کے حصہ کو نیچے اورنیچے کے حصہ کو اوپر کردینا ،علت اصل ہونے کی وجہ سے حکم سے اعلی ہے اور حکم تا بع ہونے کی وجہ سے علت سے نیچے ہے ،جب قلب کردیا ،تو اعلی اسفل اور اسفل اعلی ہوگیا ،تو برتن کو پلٹنے کی طر ح ہوگیا ۔
وانما یصح ھذا :-مصنفؒ فرماتے ہیں کہ قلب کی یہ قسم صرف اسی صورت میں متحقق ہو سکتی ہے جب کہ کسی حکم ِشرعی کو قیاس کی علت بنایا گیا ہو ،تا کہ جب پلٹا جائے تو دوبار ہ وہ حکم بننے کے قابل ہو،لیکن اگر وصف ِخالص کو علت بنایا جائے جو حکم بننے کے قابل نہ ہو، توقلب متحقق نہیں ہو سکتا ۔
اس کی مثال ،امام شافعیؒ کے نزدیک کفا رکو زنا کے جرم میں اگر غیر محصن ہے تو کوڑے مارے جائیں گے، اور محصن ہے تو رجم کیا جائے گا ،ان کے نزدیک محصن ہونے کے لئے اسلام شرط نہیں ہے،__اور ہمارے نزدیک محصن ہونے کے لئے اسلام شرط ہے ،لہٰذا کا فرمحصن ہوگا ہی نہیں ،تو کافر شادی شدہ اور غیر شادی شدہ دونوںکو سو کوڑے مارے جائیں گے ، تو شوافع نے کفار کو مسلمانوں پر قیاس کر کے کہا کہ کفارکے بکر(غیر محصن)کو سوڑے لگتے ہیں، تو ان کے ثیب (محصن )کو رجم کیا جائے گا ،__امام شافعی نے جلد (گوڑے لگنا ) کو علت قرار دیا اور رجم کو حکم بنایا ،__تو ہم نے ان پر معارضہ کیا ،ان کی علت کو حکم اور حکم کو علت بنادیا ،اور ہم نے کہا کہ آپ نے مسلمانوں پر قیاس کیا ،اور مسلمانوںمیں ہم جلد (کوڑے مارنا) کو رجم کی علت مانتے ہی نہیں بلکہ الٹا یوںکہتے ہیں کہ مسلمانوںمیں بِکر (غیر محصن)کو کو ڑے مارے جاتے ہیں،کیونکہ ان کے ثیب (محصن )کو رجم کیا جاتا ہے ،تو رجم علت ہے اور جَلْد (کوڑےمارنا )حکم ہے،__تو ان کی علت کوحکم اور حکم کو ہم نے علت بنادیا ،__ملاحظہ کیجئے یہ قلب چونکہ مُعَلِّل کے دعوی(کفار محصن کے حق میں اثبات رجم)کے خلاف دلالت کرتا ہے ،اس لئے معارضہ ہوا ،اور ساتھ ہی ساتھ مناقضہ بھی ہے ان کی دلیل پر کہ انہوں نے جس حکم (جلد ،کوڑے لگنا)کو علت بنایا تھا وہ علت بننے کے قابل نہیں۔