ہزل کا اعتبارنہ ہوگا،__اس پر مصنف دودلیلیںذکرکررہے ہیں،نقلی دلیل یہ حدیث ہے’’ثلث جدھن وجد ھذلھن جد‘‘النکاح والطلاق والیمین‘‘ تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان کوسچ مچ انجام دینا تو سچ مچ ہے ہی،ان کا مذاق بھی سچ مچ پر محمول ہے،وہ تین چیزیںیہ ہیںنکاح،طلاق،اور یمین،اور بعض روایتوں میں نذر کا بھی ذکر ہے،اور رہا قصاص کومعاف کرناتو اس کا ثبوت دلالت النص سے ہے،اس طرح کہ عفوعن القصاص اعتاق کے قبیل سے ہے،__اور دلیل عقلی یہ ہے کہ یہاں مذاق کرنے والا سبب سے اور اس کے تکلم سے تو راضی ہے، البتہ سبب کے حکم سے راضی نہیں ہے،اور اس میں رضا کی ضرورت بھی نہیں ہے،محض سبب کا پایا جاناکافی ہے،جب سبب پایا گیا تو حکم واقع ہوجائے گا،چاہے حکم پرراضی ہویا نہ ہو،کیونکہ یہ سب معاملے ایسے ہیںجن میں نہ رد کا احتمال ہے،نہ اقالہ اور فسخ کا احتمال ہے اور نہ تراخی کا، یہی وجہ ہے کہ ان معاملات میں خیارِ شرط نہیں ہوتاہے،کیونکہ خیارِ شرط سے تو انعقادِ سبب کے بعد حکم مؤخر ہوجاتا ہے،اور ان معاملات میں تراخی کا احتمال نہیں ہوتا ہے،پس جیسے خیارِ شرط ان اسباب میں مؤثر نہیں ہوتاہے ،ایسے ہی ہزل بھی مؤثر نہ ہوگا۔
واما مایکون المال فیہ مقصوداً:-مصنفؒ فرماتے ہیںکہ اگر ہزل ایسے عقد میں ہوجس میں مال مقصود ہو، جیسے خلع،عتق علی مال اور صلح عن دم العمد،ان تمام میں مال مقصود ہے کیونکہ ان میں مال بغیر ذکر کے واجب نہیںہوتا ہے،لیکن جب مال کی شرط لگادی تومعلوم ہوا کہ مال ہی مقصود ہے،ان میں ہزل کی صورت یہ ہے کہ دونوں باہم یہ طے کریں کہ ہم لوگوں کے سامنے دوہزار روپئے پرخلع کریںگے،حقیقت میں ہمارے درمیان خلع نہ ہوگا،یہ اصلِ خلع میں ہزل ہے،یایہ طے کریںکہ ہم لوگوں کے سامنے دوہزار میں خلع کریں گے،اور حقیقت میں ایک ہزار میں خلع ہوگا تو یہ بدلِ خلع میں ہزل ہے، یادونوں یہ طے کریں کہ ہم لوگوں کے سامنے دوہزار درہم پر خلع کریں گے،اور حقیقت میں دوسودینار بدلِ خلع ہوگا،یہ جنس بدل خلع میں ہزل کی صورت ہے،ایسے ہی عتق اور قتلِ عمد کی صلح میں ہزل کی یہ صورتیں ہوں،اس طرح ہزل کر کے دونوں ہزل پر باقی ہوں،یا ہزل سے اعراض کرنے پر متفق ہوں،یاہزل سے خالی الذھن ہوں، یا ہزل میں دونوں میں اختلاف ہوجائے ،ان تمام صورتوں میں مبسوط کے کتاب الاکراہ کے مطابق خلع میں صاحبین کا مذہب یہ ہے کہ ہزل باطل ہوجائے گا،اور طلاق واقع ہوجائے گی،اور جو مال ذکر کیا ہے وہ واجب ہوجائے گا،مذاق کا اعتبار نہ ہوگا،کیونکہ خلع میں خیارِ شرط کا احتمال نہیں ہوتا ہے،لہٰذا اگر خلع میں بیوی کے حق میں خیار شرط ہوتب بھی مال واجب ہوگا،اور طلاق واقع ہوجائے گی،اور خیار باطل ہوگا،تو خلع میں جب صاحبین کے نزدیک خیار شرط کا احتمال نہیں تو خلع میں مذاق کا بھی اعتبار نہ ہوگا،مذاق باطل ہوگا،کیونکہ حکم سے عدم رضا میں ہزل ومذاق خیار شرط کے درجہ میں ہے، لہٰذا جب ہزل کا کوئی اعتبار نہیں تو طلاق واقع ہوجائے گی اور مال واجب