اس سے حقیقۃً فوت ہوگیا ،اور اسی وجہ سے اس کا فرض اقامت کی نیت سے متغیر نہیں ہوگا اس حالت میں، جیسا کہ فرض قضاء محض ہوجائے فوت ہونے کی وجہ سے پھر مُغَیِر پایا جائے برخلاف مسبوق کے اس لئے کہ وہ اپنی نماز کو پورا کرنے تک ادا کرنے وا لا ہے۔
------------------------------
تشریح:- مصنفؒ اد ا کی قسمیں بیان فرمارہے ہیں کہ ادا کی دو قسمیں ہیں (۱) ادائے کامل (۲) ادا ئے قاصر ، ادا ء محض سے مراد اداء ِکامل ہے،اداء ِکامل یہ ہے حکم جس طرح مشروع ہوا ہے اس کو اسی صفت کے ساتھ ادا کرنا جیسے نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا،کیونکہ نماز جماعت کے ساتھ مشروع ہوئی ہے اسی لئے جب نماز مشروع ہوئی تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے شروع کے دودن میں حضورﷺکو جماعت کے ساتھ نماز پڑھائی ،بہرحال نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا ادائِ کامل ہے،اور بغیر جماعت کے تنہا پڑھنا ادائِ قاصر ہے ،اور اس کے ادائِ قاصر ہونے کی دلیل یہ ہے کہ منفرد سے جہر ساقط ہوجاتا ہے حالانکہ جہری نماز میں جہر کرنا صفت کمال ہے ،اسی لئے اس کے چھوٹنے سے سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے،پس صفت ِکمال یعنی جہر کا ساقط ہونا دلیل ہے اس کی کہ منفرد کی ادا ادائِ قاصر ہے۔
وفعل اللاحق:-مصنف ؒ ادا کی تیسری قسم بیان کررہے ہیں جس کو اداء شبیہ بالقضا کہتے ہیں ،جیسے لاحق کا فعل یعنی جس نے نماز امام کے ساتھ شروع کی ،پھر درمیان میں حدث لاحق ہوگیا ،وہ وضو کرنے چلاگیا اور باقی نماز امام کے فارغ ہونے کے بعد پوری کررہا ہے، تو لاحق کی یہ باقی نماز اداء مشابہ بالقضاء ہے ،چونکہ وہ وقت میں پڑھ رہا ہے ،نماز کا وقت ابھی باقی ہے ،اس لئے یہ ادا کے مشابہ ہے،اور جس طرح اس نے التزام کیا تھا اس طرح وہ پوری نہ کرسکا ،کیونکہ نماز شروع کرتے وقت اس نے اپنے اوپر لازم کیا تھا کہ پوری نماز امام کے ساتھ پڑھے گا اور یہ التزام اس سے حقیقۃً فوت ہوگیا ، اس لئے یہ قضا کے مشابہ ہے۔
ولھذالایتغیر:- لاحق کی نماز مشابہ بالقضا ہے ،اس کا ثمرہ بیان کررہے ہیں کہ یہ لاحق مسافر ہے اور اس نے مسافر امام کی اقتدا میں ظہر کی نماز شروع کی ،پھر اس کو حدث لاحق ہوگیا، اور وضو کرنے چلاگیا پھر باقی ماندہ نماز کو امام کے فارغ ہونے کے بعد ادا کررہا ہے،تو یہ لاحق کا فعل مشابہ بالقضاء ہے ،لہٰذا اس وقت اگر وہ اقامت کی نیت کرتا ہے تو نیت ِاقامت سے اس کا فرض بدلے گا نہیں ،کیونکہ مُغَیِّر (نیت ِاقامت) ادا سے متصل نہیں ہے، بلکہ قضا سے متصل ہے، کیونکہ لاحق کی یہ نماز مشابہ بالقضا ہے،جیسے کسی کی نماز خالص قضا ہو جیسے مسافر نے ظہر کی نماز نہیں پڑھی اور عصر کے وقت میں وہ مقیم ہوجائے، اقامت کی نیت کرکے ،تو ظہر کی نماز وہ قصر ہی پڑھے گا کیونکہ اقامت کی نیت وقت کے بعد ہوئی ہے یعنی مُغَیر قضا سے متصل ہے ادا سے متصل نہیں ہے ،پس خالص قضا کی صورت میں موثر نہیں ہے ، اسی طرح مشابہ بالقضا مین بھی نیت موثر نہ ہوگی۔