باندی ہوں، اور وہ اپنی باندی سمجھ کر وطی کرلے یا اس سے نکاح کرلے، تو اس کو مغرور (دھوکا کھایا ہوا) کہا جائے گا۔
ومنہ مایثبت ضرورۃ دفع الغرر:-بیانِ ضرورت کی تیسری قسم وہ ہے جو لوگوں کو دھوکے سے بچانے کے لئے ثابت ہو، جیسے شفیع کو بیع کا علم ہوا، اور اس نے سکوت کیا، کوئی مطالبہ نہیں کیا تو اس کا یہ سکوت اس بات کا بیان ہوگا کہ اس نے اپنے حق شفعہ کوچھوڑدیا ہے، اور شفیع کے سکوت کو اپنے حقِ شفعہ کو چھوڑدینے کابیان اس لئے قرار دیا جاتا ہے تاکہ مشتری سے دھوکہ دور کیا جاسکے ، کیونکہ مشتری شفیع کے ڈر سے مبیع میں تصرف سے گریز کرے گا، اور یہ اس کے لئے ضرر ہے، اور مشتری شفیع کے خوف سے اسی وقت بچ سکتا ہے جب کہ شفیع کے سکوت کو ترکِ حقِ شفعہ کابیان قرار دیا جائے، اب وہ بلاجھجھک مبیع میں تصرف کرے گا، اسی طرح شفیع کے سکوت کوبیان نہ قرار دینے کی صورت میں بائع کوبھی ضرر ہوگا، کیونکہ شفیع کے خوف سے کوئی اس کی جائداد کو خریدنے کا ارادہ اور ہمت نہیں کرے گا۔
اسی طرح اگر مولی اپنے غلام کو خرید وفروخت کرتے دیکھ لے اور سکوت اختیار کرے تو اس کا یہ سکوت اس بات کا بیان ہوگا کہ مولی نے غلام کو تجارت کی اجازت دیدی ہے، اگر اس کو بیان نہ قرار دیا جائے تو لوگ اس غلام سے خرید وفروخت کرکے دھوکہ کھائیں گے۔
امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ مولی کا یہ سکوت اجازت نہ سمجھا جائے گا، کیونکہ احتمال ہے کہ مولی نے غصہ کی وجہ سے سکوت کیا ہو، اورمُحْتَمَلْ حجت نہیں ہوتا، لہٰذا مولی کا سکوت اجازت کے لئے حجت نہ ہوگا۔
وَمِنْہُ مَایَثْبُتُ بِضَرُوْرَۃِ کَثْرَۃِ الْکَلَامِ مِثْلُ قَوْلِ عُلَمَائِنَا فِیْمَنْ قَالَ لَہٗ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَدِرْھَمٌ اَوْمِائَۃٌ وَقَفِیْزُ حِنْطَۃٍ اِنَّ الْعَطْفَ جُعِلَ بَیَانًا لِلْمِائَۃِ وَقَالَ الشَّافِعِیؒ اَلْقَوْلُ قَوْلُہٗ فِیْ بَیَانِ الْمِائَۃِ کَمَا اِذَاقَالَ لَہٗ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَثَوْبٌ قُلْنَا اِنَّ حَذْفَ الْمَعْطُوْفِ عَلَیْہِ مُتَعَارَفٌ ضَرُوْرَۃَ کَثْرَۃِ الْعَدَدِ وَطُوْلِ الْکَلَامِ ذٰلِکَ فِیْمَا یَثْبُتُ وُجُوْبُہٗ فِی الذِّمَّۃِ فِیْ عَامَّۃِ الْمُعَامَلَاتِ کَالْمَکِیْلِ وَالْمَوْزُوْنِ دُوْنِ الثِّیَابِ فَاِنَّھَا لَاتَثْبُتُ فِی الذِّمَّۃِ اِلَّا بِطَرِیْقٍ خَاصٍ وَھُوَ السَّلَمُ۔
ترجمہ:-اور بیانِ ضرورت کی چوتھی قسم وہ ہے جوکلام کے کثرتِ استعمال کی ضرورت کی وجہ سے ثابت ہوتی ہے، جیسے ہمارے علماء کا قول اس شخص کے بارے میں جس نے کہا لہ علی مائۃ ودرھم یا مائۃ وقفیز حنطۃ تو عطف مائۃ کا بیان قرار دیا جائے گا، اور امام شافعیؒ نے کہا کہ مائۃ کے بیان میں قائل کا قول معتبر ہوگا، جیسا کہ جب کہا لہ علی مائۃ وثوب، ہم کہیں گے کہ معطوف علیہ کا حذف کثرت ِعدد اور طولِ کلام کی ضرورت کی وجہ سے متعارف