مسلک ِاحناف پر مثال علی المولودلہ رزقھن عبارۃ النص سے تو باپ پر نفقہ کا ثبوت معلوم ہوا مگر اشارۃ النص سے یہ معلوم ہوا کہ باپ کو بیٹے کے تمام مال میں تصرف کا حق ہے ،اور یہ حکم عام ہے مگراس سے بیٹے کی باندی سے وطی کی تخصیص کی گئی،کہ یہ باپ کے لئے جائز نہیں ہے،اگر باپ نے بیٹے کی باندی سے وطی کرلی تو اس کی قیمت واجب ہوگی ۔
فَصْلٌ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ عَمِلَ فِی النُّصُوْصِ بِوُجُوْہٍ اُخَرَ ھِیَ فَاسِدَۃٌ عِنْدَنَا مِنْھَا مَاقَالَ بَعْضُھُمْ اِنَّ التَّنْصِیْصَ عَلَی الشَّیِٔ بِاِسْمِہٖ الْعَلَمِ یُوْجِبُ التَّخْصِیْصَ وَنَفْیَ الْحُکْمِ عَمَّاعَدَاہُ وَھٰذَا فَاسِدٌ لِاَنَّ النَّصَّ لَمْ یَتَنَاوَلْہُ فَکَیْفَ یُوْجِبُ الْحُکْمَ فِیْہِ نَفْیًا اَوْاِثْبَاتًا
ترجمہ:-یہ فصل ہے (وجوہ فاسدہ کے بیان میں )اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو نصوص میں عمل کرتے ہیں دوسری وجوہ سے جو ہمارے نزدیک فاسد ہیں ،ان وجوہ ِفاسدہ میں سے وہ ہے جو بعض لوگوں نے کہا کہ کسی شیٔ کی اس کے اسمِ عَلَمْ کے ساتھ صراحت کرنا تخصیص کو واجب کرتا ہے اور حکم کی نفی کو واجب کرتا ہے اس کے علاوہ سے ،اور یہ وجہ فاسد ہے ، اس لئے کہ نص اس (مسکوت عنہ)کو شامل ہی نہیں ہے تو اس کے اندر حکم کو نفی یا اثبات کے طریقہ پر کیسے ثابت کرے گی ۔
------------------------------
تشریح:-مصنفؒمذکورہ چار طریقوں کے علاوہ سے استدلال کے طُرُق بیان کررہے ہیں ،جو ہمارے نزدیک فاسد ہیں بعض حضرات ان سے استدلال کرتے ہیں بعض سے مراد بعض حنابلہ ،بعض اشعریہ ابوبکر دقاق اور ابوحامد غزالی ہیں، اور یہاں علم سے مراد صفت پر دلالت کرنے والا لفظ نہ ہو،چاہے علم ہو یا اسم جنس ہو۔
بہرحال پہلی فاسد وجہ جس کے قائل بعض لوگ ہیں ،وہ یہ ہے کہ جب کوئی حکم کسی عَلَم پر منصوص طریقہ پر لگایا جائے تو یہ صراحت کے ساتھ علم پر حکم لگانا یہ دلالت کرے گا اس بات پر کہ یہ حکم اس اسمِ عَلَم کے ساتھ خاص ہے ،اس کے علاوہ سے یہ حکم منتفی ہے،جیسے مسلم شریف کی حدیث الماء من الماء پہلے ماء سے مراد غسل اور دوسرے ماء سے مراد منی ہے،تو اس حدیث میں اسم جنس یعنی ماء ثانی (منی) پر غسل کا حکم لگایا گیا ہے، لہٰذا غسل کا وجوب منی کے ساتھ خاص ہوگااور منی کے علاوہ سے حکم منتفی ہوگا، لہٰذااگر منی نہ نکلے جیسے اکسال(اکسال کے معنی اخراج الذکر من القبل قبل الانزال) کی صورت میں تو اس سے غسل واجب نہ ہوگا، جیسا کہ بعض انصار مدینہ نے اس حدیث سے یہی سمجھا ہے جب کہ وہ اہل زبان ہیں ،معلوم ہوا کہ اسم علم پر صراحت کےساتھ حکم لگانا اس علم کے ماعدا سے حکم کی نفی کرتا ہے