متنبہ کردیا گیا۔
ومما یتصل بسنۃ بنبینا علیہ السلام:-مصنفؒ فرماتے ہیں کہ اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ آپ ﷺاپنے سے پہلے کسی نبی کی شریعت پر عمل کے پابندتھے یانہیں؟ اکثر متکلمین اور بعض شوافع کہتے ہیں کہ آپ شرائع سابقہ پر عمل نہیں کرتے تھے،اس لئے کہ ہر نبی کی شریعت اس کی وفات سے یادوسرے نبی کی آمد سے ختم ہوگئی ،لہٰذا ہم شرائعِ سابقہ پر عمل کے پابند نہیں ہیں،__بعض حضرات کہتے ہیں کہ شرائع ِسابقہ پر عمل ضروری ہے اس حشیت سے کہ یہ ہمارے نبی کی شریعت ہے۔
مصنفؒ فرماتے ہیں کہ اس سلسلہ میں صحیح قول یہ ہے کہ سابقہ شریعتوں کے کسی حکم کو اللہ اور اس کے رسول نے بغیر نکیر کے بیان کیا ہو تو وہ حکم ہمارے اوپر لازم ہے ،لیکن اس بنیاد پر کہ یہ ہمارے نبی کی شریعت ہے،اور جس حکم کو بیان کرکے اس پر نکیر کی ہوتو وہ حکم لازم نہیں ہے،ہمارے اکثر مشائخ ،شیخ ابومنصور ماتر یدی ،شمس الائمہ ،قاضی ابوزید اور عام متاخرین کا یہی مذہب ہے۔
جیسے اللہ تعالی نے قران میں یہ حکم بغیر نکیر کے بیان کیاہے وکتبنا علیھم فیھا ان النفس بالنفس والعین بالعین والانف بالانف والاذن بالاذن والسن بالسن والجروح قصاص‘‘یہ تمام احکام ہم پر بھی لازم ہیں،اور نکیر کے ساتھ اللہ نے سابقہ شریعت کا حکم بیان فرمایا،اس کی مثال ’’فبظلم من الذین ھادو احرمنا علیھم طیبتٍ اُحلَّتْ لھم‘‘ اسی طرح اللہ تعالی کا قول وعلی الذین ھادواحرمنا کل ذی ظفر ومن البقر والغنم حرمنا علیھم شحومھما‘‘پھر اس کے بعد فرمایا ذلک جزینھم ببغیھم‘‘یہ احکام ہم پر حرام نہیں ہیں،کیونکہ یہ ان پر بغاوت اور ظلم کی سزا میں حرام تھے۔
وَمَایَقَعُ بِہٖ خَتْمُ بَابِ السُّنَّۃِ بَابُ مُتَابَعَۃِ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَبُوْسَعِیْدِ ۨ ِ الْبُرْدَعِیْؒ تَقْلِیْدُ الصَّحَابِیْ وَاجِبٌ یُتْرَکُ بِہٖ الْقِیَاسُ لِاِحْتِمَالِ السَّمَاعِ وَالتَّوْقِیْفِ وَلِفَضْلِ اِصَابَتِھِمْ فِیْ نَفْسِ الرَّأیِ بِمُشَاھَدَۃِ اَحْوَالِ التَّنْزِیْلِ وَمَعَرِفَۃِ اَسْبَابِہٖ وَقَالَ اَبُوالْحَسَنِ الْکَرْخِیْؒ لَایَجُوْزُ تَقْلِیْدُ الصَّحَابِیْ اِلَّافِیْمَا لَایُدْرَکُ بِالْقِیَاسِ وَقَالَ الشَّافِعِیؒ لَایُقَلَّدُاَحَدٌ مِنْھُمْ وَھٰذَا الْخِلَافُ فِی کُلِّ مَاثَبَتَ عَنْھُمْ مِنْ غَیْرِ اِخْتِلَافِ بَیْنِھِمْ وَمِنْ غَیْرِ اَنْ یَثْبُتَ اَنَّہٗ بَلَغَ غَیْرَ فَائِلِہٖ فَسَکَتَ مُسَلِّمًالَہٗ وَاَمَّااِنْ اِخْتَلَفُوْ فِیْ شَیْئٍ فَالْحَقُّ لَایَعْدُو