لوٹانا واجب ہوگا،البتہ اس کے آزاد ہونے کے بعد اس پر مال کا ضمان واجب ہوگا۔
وعلی ھذا قلنا فی جنایۃ العبد:-چونکہ رقیت مالکیتِ مال کے منافی ہے،اس بنیاد پر یہ حکم ہے کہ اگر غلام نے خطاء ًکوئی جنایت کی جیسے خطاء ًکسی کو قتل کردیا تو چونکہ غلام کے پاس نہ مال ہے،نہ اس میں مالکیت کی اہلیت ہے ،تو بجائے اس پر مال واجب کرنے کے اسی کی گردن کو جنایت کا عوض قرار دیاجائے گا ،اور اس کو مقتول کے حوالہ کیاجائے گا ،ہاں اگر مولی اس کا فدیہ دینا منظور کرلے تو اب غلام جنایت کا عوض نہ ہوگا،بلکہ بقول امام ابوحنیفہ واجب ِاصلی کی طرف حکم لوٹ آئے گا ،کیونکہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک واجب ِاصلی فدیہ دیناہے یعنی دیت ،مگر چونکہ غلام قادر نہیں ہوتا، اس لئے اس کے رقبہ کو عوض قرار دیاگیا،اب جب مولی فدیہ دینے پر راضی ہوگیا، تو حکم اصل کی طرف لوٹ آئے گا ، حتی کہ اگر مولی مفلس بھی ہوگیا تو اس کے افلاس کی وجہ سے فدیہ اور دیت کا وجوب باطل نہ ہوگا،اور حکم اس کے رقبہ کی طرف عود نہ کرے گا۔
اور صاحبین کے نزدیک فدیہ دیناحوالہ کے درجہ میں ہے یعنی اصل وجوب غلام پر ہے ،اس نے مولی کے حوالہ کردیا،اور حوالہ میں یہ بات ہے کہ اگر محتال علیہ ادائِ حق سے عاجز ہوجائے تو محیل اور اصیل بری نہیں ہوتاہے، لہٰذا مولی اگر مفلس ہوگیا ،تو دیت غلام کے ذمہ میں ہوگی اور اس کے لئے غلام کارقبہ حوالہ کیاجائے گا ۔
وَاَمَّاالْمَرَضُ فَاِنَّہٗ لَایُنَافِیْ اَھْلِیَّۃَ الْحُکْمِ وَلَااَھْلِیَّۃَ الْعِبَارَۃِلٰکِنَّہٗ لَمَّاکَانَ سَبَبَ الْمَوْتِ وَالْمَوْتُ عِلَّۃُ الْخِلَافَۃِ کَانَ مِنْ اَسْبَابٍ تَعَلُّقِ حَقِّ الْوَارِثِ وَالْغَرِیْمِ بِمَالِہٖ فَیَثْبُتُ بِہٖ الْحَجَرُ اِذَا اِتَّصَلَ بِالْمَوْتِ مُسْتَنِدًا لٰے اَوَّلِہٖ بِقَدَرِ مَایَقَعُ بِہٖ صِیَانَۃُ الْحَقِّ فَقِیْلَ کُلُّ تَصَرُّفٍ وَاقِعٍ مِنْہٗ یَحْتَمِلُ الْفَسْخَ فَاِنَّ الْقَوْلَ بِصِحَّتِہٖ وَاجِبٌ فِی الْحَالِ ثُمَّ التَّدَارُکِ بِالنَّقْضِ اِذَا اُحْتِبْجَ اِلَیْہِ وَکُلُّ تَصَرُّفٍ وَاقِعٍ لَایَحْتَمِلُ الْفَسْخَ جُعِلَ کَالْمُعَلَّق بِالْمَوْتِ کَالْاِعْتِاقِ اِذَا وَقَعَ عَلٰی حَقِّ غَرِیْمٍ اَوْ وَارِثٍ بِخِلَافِ اِعْتَاقِ الرَّاھِنِ حَیْثُ یَنْفُذُ لِاَنَّ حَقَّ الْمُرْتَھِنِ فِیْ مِلْکِ الْیَدِدُوْنَ مِلْکِ الرَّقَبَۃِ وَکَانَ الْقِیَاسُ اَنْ لَایَمْلِکُ الْمَرِیْضُ الصِّلَۃَ وَاَدَاءَ الْحُقُوْقِ الْمَالِیَۃِ لِلّٰہِ تَعَالٰی وَالوصِیَّۃَ بِذٰلِکَ اِلَّااَنْ الشَّرْعَ جَوَّزَ ذٰلِکَ مِنَ الثُّلُثِ نَظْرًا لَہٗ وَلَمَّا تَوَلّٰی الشَّرْعُ اَلْاَیْصَاءَ لِلْوَرَثَۃِ وَاَبْطَلَ اِیْصَاءَ ہٗ لَھُمْ بَطَلَ ذٰلِکَ صُوْرَۃً وَمَعْنًی وَحَقِیْقَۃً وَشُبْھَۃً حَتّٰی لَمْ یَصِحَّ بِیْعُہٗ مَنَ الْوَارِثِ اَصْلًا عِنْدَ اَبِیْ