ہے، یعنی اگر چہ اس نے الیوم کا اضافہ کیا ہے مگر اس کی حالت بتا رہی ہے کہ یہ اسی کھانے کو مراد لے رہا ہے ،اور ہم دلالت حال کا اعتبار اس لئے نہیں کرینگے کہ صریح لفظ آگیا اس کی رعایت میں اس کو مستقل کلام قرار دینگے ۔
وَمِنْھَا مَاقَالَ بَعْضُھُمْ أِنَّ الْقِرَانَ فِی النَّظْمِ یُوْجِبُ الْقِرَانَ فِی الْحُکْمِ مِثْلُ قَوْلِ بَعْضِھِمْ فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالَی وَاَقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوْاالزَّکٰوۃُ اِنَّ القِرَانَ یُوْجِبُ اَنْ لَّاتَجِبَ الزَّکٰوۃُ عَلَی الصَّبِیِّ قَالُوْا لِاَنَّ الْعَطْفَ یَقْتَضِیْ الْمُشَارَکَۃَ وَاَعْتَبَرُوا بِالْجُمْلَۃِ النَّاقِصَۃِ اِذَا عُطِفَتْ عَلٰی الْکَامِلَۃِ وَھٰذَا فَاسِدٌ لِاَنَّ الشِّرْکَۃَ اِنَّمَا وَجَبَتْ فِی الْجُمْلَۃِ النَّاقْصَۃِ لِاِفْتِقَارِھَا اِلٰی مَایَتِمُّ بِہٖ فَاِذَا تَمَّ بِنَفْسِہٖ لَمْ تَجِبِ الشِّرْکَۃُ اِلَّافِیْمَا یَفْتَقِرُ اِلَیْہِ وَلِھٰذَا قُلْنَا فِیْ قَوْلِ الرُّجُلِ لِاِمْرَأَتِہٖ اِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَاَنْتِ طَالِقٌ وَعَبْدِی حُرٌّاِنَّ الْعِتْقَ یَتَعَلَّقُ بِالشَّرْطِ لِاَنَّہٗ فِیْ حَقِّ التَّعْلِیْقِ قَاصِرٌ
ترجمہ:-اور ان وجوہ ِفاسدہ میں سے ایک وجہ وہ ہے جو بعض حضرات نے کہا کہ لفظ میں قِران (ملاپ)واجب کرتا ہے حکم میں قران کو جیسے ان میں سے بعض حضرات کا قول ہے اللہ تعالی کے ارشاد واقیموا الصلوۃ واٰتوا الزکوۃ میں کہ قران واجب کرتا ہے اس بات کو کہ واجب نہیںہے بچہ پر زکوۃ ،انہوں نے کہا اس لئے کہ عطف تقاضا کرتا ہے مشارکت کا اور ان حضرات نے قیاس کیا ہے جملہ ٔ ناقصہ پر جب کہ اس کا عطف کیا جائے جملہ ٔکاملہ پر اور یہ قیاس فاسد ہے اس لئے کہ شرکت واجب ہوتی ہے جملہ ٔ ناقصہ میں اس کے محتاج ہونے کی وجہ سے اس کلام کی طرف جس کے ذریعہ وہ تام ہوجائے ،پس جب کلام تام ہو بذات خود تو شرکت واجب نہ ہوگی مگر اس چیز میں جس کی جانب احتیاج ہو ،اور اسی وجہ سے ہم نے کہا ہے مرد کے قول میں اپنی بیوی سے ان دخلت الدار فانت طالق وعبدی حرکہ عتق متعلق ہوگا شرط کے ساتھ اس لئے کہ یہ تعلیق کے حق میں قاصر ہے ۔
------------------------------
تشریح:-وجوہ فاسدہ میں سے آخری وجہ فاسد بیان کررہے ہیں اس کے قائل امام مالک ؒ ہیں ،وہ فرماتے ہیں کہ قران فی النظم قران فی الحکم کو واجب کرتا ہے یعنی دو کلام جب حرف عطف کے ذریعہ جمع ہوجائیں تو یہ دلیل ہوگی اس بات کی کہ یہ دو نوں کلام حکم میں بھی شریک ہیں ،اسی لئے وہ فرماتے ہیں کہ مجنون پر زکوۃ واجب نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے واقیموا الصلوۃ واٰتواالزکوۃ اقامت صلوۃ اور ایتاء زکوۃ دو جملوں کو حرف عطف کے ذریعہ جمع کیا گیا ہے تو یہ عطف تقاضا کرتا ہے کہ دونوں جملوں میں حکم میں بھی شرکت ہے ،دونوں میں حکم میں بھی برابری ہے اور حکم میں شرکت اور برابری کا مطلب یہ ہے کہ ایک واجب ہوگا، تو دوسرا بھی واجب ہوگا اگر ایک واجب