کردیا،تو فعلِ قتل مکرہِ کی طرف منسوب ہوگا،اور اسی پرقصاص آئے گا،اورمُکرَہ آلہ کی طرح سمجھاجائے گا جیسے آلہ یعنی تلوار کی طرف فعل منسوب نہیں ہوتا ،ایسے ہی مکرَہ کی طرف بھی منسوب نہ ہوگا،کیونکہ مُکرَہ نے تو اکراہ کی وجہ سے فعل کا ارتکاب کیا ہے،اس میں اس کا اختیار فاسد اور کالعدم ہے،جس کی وجہ سے مکرَہ مکرِہ کے لئے بمنزلہ آلہ کے عدیم الاختیار ہے،اور مکرِہ کا اختیار صحیح ہے،،تو مکرَہ کا اختیار فاسد ہے اور مکرِہ کا اختیار صحیح ہے دونوں میں تعارض ہوا تو اختیار فاسد اختیار صحیح کے مقابلہ میں غیر معتبر اور معدوم ہو گا،لہٰذا فعل مکرِہ کی طرف منسوب ہوگا،اور اسی سے مؤاخذ ہ ہوگا۔
اما فیما یحتملہ :-اور جہاں اکراہ میں فعل ایسا ہو جس میں مکرَہ (بالفتح)مکرِہ(بالکسر)کا آلہ نہ بن سکتا ہو، تو یہ افعال مکرہ(با لکسر)کی طرف منسوب نہ ہوں گے بلکہ مکرہ (بالفتح)کی طرف ہی منسوب ہوں گے، کیوں کہ یہاں استحقاق حکم میں اختیار فاسد اور اختیار صحیح میں کوئی تعارض نہیں ہے،کیونکہ مکرہ (بالکسر)کے لیے آلہ بن ہی نہیں سکتا ہے لہٰذا یہاں دونوں کے اختیار میں تعارض نہ ہوگا تو فعل اختیار فاسد یعنی مکرَہ (بالفتح)کی طرف ہی منسوب ہوگا، اور اسی پر فعل کا حکم لازم ہوگا،جیسے کسی کو روزہ کی حالت میں کوئی چیز کھانے پر مجبور کیاگیا،یا عورت سے وطی کرنے پر مجبور کیا گیا،یا طلاق دینے یا غلام کو آزاد کرنے پر مجبور کیا گیا،اور اکراہ کی وجہ سے مکرہ نے ان افعال کا ارتکاب کرلیا،تو ان افعال کی نسبت فاعل یعنی مکرَہ کی طرف ہوگی،لہٰذا روزہ کی حالت میں کوئی چیز کھالینے سے مکرَہ کا روزہ فاسد ہوگانہ کہ مکِرہ کا،اسی طرح اکراہ کی وجہ سے وطی کرنے سے جرم کامل نہ ہونے کے سبب حد تو مکرَہ اور مکرِہ دونوں پر واجب نہ ہوگی مگر عقر یعنی زنا کا بدل مکرَہ پر واجب ہوگا،کیونکہ زنا سے اسی نے منفعت حاصل کی ہے،اسی طرح اکراہ کی وجہ سے طلاق دی ہے تو مُکرہ کی طلاق واقع ہوگی،کیونکہ ان افعال میں فاعل دوسرے کا آلہ نہیں بن سکتا ہے،آلہ نہ بننے کی دلیل یہ ہے کہ کھانے میں یہ بات ممکن نہیں ہے کہ آدمی دوسرے کے منہ سے کھائے ،اسی طرح نہ دوسرے کے منہ سے بات کرنا ممکن ہے،پس کھانے والے نے اور طلاق وعتاق کی بات کرنے والے نے اپنے ہی منہ سے کھایا ہے اور تکلم کیا ہے،لہٰذا یہ فعل فاعل یعنی مکرَہ (بالفتح) کی طرف منسوب ہوگا،کھانے میں اور تکلم میں مَکرہ (بالفتح) مکِرہ(بالکسر)کا آلہ نہیں بن سکتاہے۔
وکذلک اذاکان:-اور اگر اکراہ والافعل ایسا ہوکہ جس کی ذات کی طرف یعنی نفس ِفعل کی طرف دیکھتے ہوئے اس میں فاعل کا دوسرے کے لئے آلہ بننا ممکن ہو،مگر اس فعل کے محل کی طرف نظر کرتے ہوئے اس میں فاعل یعنی مکرَہ کا غیر کے لئے آلہ بننا ممکن نہ ہو،بایں طور کہ اگر فاعل یعنی مکرَہ کو آلہ قرار دیاجائے تو محلِ اکراہ بدل جائے یعنی اکراہ ظاہر میں جس محل پر ہوا ہے اس کے علاوہ محل کی طرف منتقل ہوجائے ،جیسے کسی نے محرم کو اپنے احرام پر جنایت کرنے مثلاً شکار کرنے پر مجبور کیا،اور اکراہ کی وجہ سے محرم نے شکار کرلیا،یعنی جنایت کرلی تو یہ فعل فاعل پر منحصر رہے