،تو روزہ اور فدیہ میں اور حج اور دوسرے کو حج کا خرچ دے کر حج کرانا ان دونوں میں مماثلت عقل سے سمجھ میں نہیں آتی ہے، کیونکہ صوم میں نفس کو بھوکا رکھنا ہے اور فدیہ میں سیراب کرنا ہے ،اسی طرح حج افعال ہے اور نفقہ عین ہے تو دونوں میں کوئی مماثلت نہیں ہے مگرخلاف قیاس نص سے ثابت ہے۔
لکنہ یحتمل:-ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ شیخ فانی کے حق میں روزہ کا فدیہ غیر معقول ہے،خلافِ قیاس نص سے ثابت ہے،اور جو چیز خلافِ قیاس نص سے ثابت ہو وہ اپنے مورد پر رہتی ہے، اس پر کسی دوسری چیز کو قیاس نہیں کیا جاسکتاہے، حالانکہ آپ نے روزے پر نماز کے فدیہ کو قیاس کیا،اور کہا کہ کوئی آدمی مرگیا اور نمازیں واجب ہیں اور اس نے وصیت کی تو وارث پر ہر نماز کے بدلہ ایک فدیہ واجب ہے۔
اس کا جواب یہ ہے نماز کا فدیہ ہم نے روزہ کے فدیہ پر قیاس کرکے واجب نہیں کیا ہے ،بلکہ بطور احتیاط کے یہ فدیہ ہم نے واجب کیا ہے ،کیونکہ نصوص میں اصل یہ ہے کہ وہ معلول بالعلۃ ہوں، اسی لئے ہوسکتا ہے کہ روزہ کے فدیہ کی علت عجز ہو اور یہ عجز کی علت نماز میں بھی موجود ہے، اس لئے احتیاطاً نماز میں بھی فدیہ کا حکم لگایا، یا چونکہ نماز بھی روزہ کی طرح عبادت ہے بلکہ روزہ سے زیادہ اہم عبادت ہے،تو نماز میں بھی فدیہ کا حکم لگایا ،اور اللہ کے فضل سے امید کرتے ہیں کہ اس کو قبول کرلے ،__یہ مسئلہ ایسا ہی ہے کہ مرحوم نے وصیت نہ کی ہو اور وارث نے خود ہی اس کا فدیہ ادا کردیا تو اللہ کے فضل سے امید ہے کہ اس کو اس کی نماز کے بدلہ قبول کرلے،__ امام محمدؒ نے زیادات میں اس مسئلہ کو بیان فرماکر اللہ کی مشیت پر معلق کیا ہے یعنی انشاء اللہ اس کو کافی ہوجائے گا کہا ہے ،یہ بھی دلیل ہے کہ نماز کے فدیہ کو روزہ کے فدیہ پر قیاس نہیں کیا ہے کیونکہ قیاسی مسائل اللہ کی مشیت پر معلق نہیں ہوتے ہیں۔
وَلَانُوْجِبُ التَّصَدُّقَ بِالشَّاۃِ اَوْبِالْقِیْمَۃِ بِاِعْتِبَارِ قِیَامِہٖ مَقَامَ التَّضْحِیَّۃِ بَلْ بَاَعْتِبَارِ اِحْتِمَالِ قِیَامِ التَّضْحِیَّۃِ فِیْ اَیَّامِھَا مَقَامَ التَّصَدُّقِ اَصْلاً اِذْھُوَ الْمَشْرُوْعُ فِیْ بَابَ الْمَالِ وَلِھٰذَا لَمْ یَعُدْ اِلَی الْمِثْلُ بِعَوْدِ الْوَقْتِ وَلِھٰذَا قَالَ اِبُوْیُوْسُفَ فِیْمَنْ اَدْرَکَ الْاِمَامَ فِی الْعِیْدِرَاکِعًا لَمْ یُکَبِّر لِاَنَّہٗ غَیْرُ قَادِرٍ عَلٰی مِثْلٍ عِنْدِہٖ قُرْبَۃً لٰکِنَّا نَقُوْلُ بِاَنَّ الرَّکُوْعَ یَشْبَہُ الْقِیَامَ فَبِاِعْتِبَارِ ھٰذِہٖ الشُّبْھَۃِ لَایَتَحَقَّقُ الْفَوَاتُ فَیُؤْتٰی بِھَا فِی الرُّکُوْعِ اِحْتِیَاطًا
ترجمہ:-اور نہیں واجب کرتے ہیں ہم بکری یا اس کی قیمت کے صدقہ کو اس کے قربانی کے قائم مقام ہونے کے اعتبار سے، بلکہ اصلاً قربانی کے ایام نحر میں صدقہ کے قائم مقام ہونے کے احتمال کا اعتبار کرنے کی وجہ سے، اس لئے