معروف یعنی وقت مراد نہیں ہے،کیونکہ امر ہی وجوب ِادا کا سبب ہوتا ہے،اور وقت وہ نفس ِوجوب کا سبب ہے،عام محققین اصولیین احناف میں سے ،بعض اصحاب شافعی ،قاضی امام ابو زید شمس الائمہ اور خود مصنفؒ ان سب کا مذہب یہ ہے کہ جس سبب سے ادا واجب ہوتی ہے اسی سے قضا بھی واجب ہوتی ہے ،اور احناف میں سے بعض مشائخ ِعراق ،عام شوافع اور عام معتزلہ کا مذہب یہ ہے کہ قضا نص ِجدید سے واجب ہوتی ہے،وہ کہتے ہیں کہ نماز کی ادا کا سبب اقیموا الصلوۃ ہے اور قضا کا سبب وہ حدیث ہے من نام عن صلاۃ اونسیھا فلیصلھا اذا ذکرھا ، یہ قضا کا سبب ہے،اور ادائے صوم کا سبب کتب علیکم الصیام ہے ، اور قضا کا سبب فمن کان منکم مریضاً اوعلی سفر فعدۃ من ایام اخر ہے، اور جہاں قضا کے لئے نص وارد نہیں ہوئی ہے، وہاں قضا کا سبب تفویت یا فوات ہے۔
فریق اول کہتا ہے کہ قضا کا وہی سبب ہے جو ادا کا سبب ہے،لہٰذا اقیمو الصلوۃ ادا اور قضا دونوں کا سبب ہے اور کتب علیکم الصیام ادا اور قضا روزہ دونوں کا سبب ہے ،اور اذا نسی احدکم حدیث اور فعدۃ من ایام اخر یہ قضا کا سبب نہیں بلکہ یہ تو صرف یہ بتلانے کے لئے وارد ہوا ہے کہ سابق واجب تمہارے اوپر باقی ہے ختم نہیں ہوا،یہ بات ذہن میں رہے کہ مذکورہ اختلاف قضا بمثل معقول کے بارے میں ہے ورنہ اگر قضا بمثل غیر معقول ہے تو بالاتفاق قضا کے لئے سبب جدید کا ہونا ضروری ہے۔
لان بقاء اصل الواجب :- فریقِ اول دلیل یہ ہے کہ نماز اور روزہ جب قضا ہوگیا تو بندے پر اصل واجب باقی ہے کیونکہ بندہ اپنے پاس سے مثل دیکر اصل واجب کو ادا کرسکتا ہے رہ گئی وقت کی فضیلت تو چونکہ بندہ اس پر قادر نہیں کیونکہ وقت کی فضیلت جو نکل گئی اس کا کوئی مثل نہیں نہ اس کا کوئی ضمان ہے،لہٰذا اصل واجب اس کے مثل کے ذریعہ قدرت کی وجہ سے بندہ پر باقی رہے گا اور وقت کی فضیلت بغیر مثل وضمان کے ساقط ہوجائے گی چونکہ بندہ اس سے عاجز ہے،اور فضیلت وقت سے عاجز ہونے سے اصل واجب ساقط نہ ہوگا بلکہ اصل واجب اس پر باقی رہے گا ،اور یہ دونوں باتیں یعنی مثل پر قدرت کی وجہ سے اصل واجب کا باقی رہنا اور فضیلت ِ وقت کو حاصل کرنے سے عاجز ہونے کی وجہ سے فضیلت وقت کا بغیر مثل وضمان کے ساقط ہوجانا __ منصوص علیہ میں امر معقول ہیں اور منصوص علیہ نماز اور روزے کی قضا ہے جس کے بارے میں نص وارد ہوئی ہے من نسی عن صلوۃ اور فعدۃ من ایام اخر - اور جب منصوص علیہ میں یہ دونوں باتیں معقول ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ سابق واجب جو تھا وہی برقرار ہے وقت نکل جانے کی وجہ سے واجب ساقط نہیں ہوا، لہٰذا قضا کے لئے نص ِجدید کی ضرورت نہیںہے ،پھر یہ جو نص ہے نماز روزہ میں اذا نسی احدکم اور فعدۃ من ایام اخر__ یہ سابق واجب کی یاد دہانی کے لئے ہیں۔