تشریح :-مصنفؒ ایک اصول بیان کررہے ہیں کہ جن معاملات میں ہزل مؤثر ہے یعنی وہ اُمور جو نقض کا احتمال رکھتے ہیں،جیسے بیع،اور اجارہ،اورامام صاحب کی اصل کے مطابق وہ معاملات جن میں مال مقصود ہوتا ہے جیسے خلع وغیرہ، تو یہاں ہزل کی موافقت پر اس وقت عمل واجب ہوگاجب دونوں عقد کرنے والے ہزل پر بنا کرنے پر اتفاق کرلیں،تو اب اس کو ہزل ہی سمجھیں گے،اور اگر دونوں اس پر اتفاق کرلیں کہ عقد کے وقت دونوں خالی الذھن تھے یاہزل اورعدم ِہزل میں دونوں کا اختلاف ہوجائے کہ ایک ہزل کامدعی ہو اور دوسرا جدّ کاتو جو جد کا مدعی ہے اس کے قول کا اعتبار کیاجائے گا،یہ حکم امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک ہے،اور صاحبین اپنی اصل پر ہیںکہ ان کے نزدیک اس قسم میں ہزل باطل ہے،جب ہزل باطل ہے تو طلاق واقع ہوجائے گی اور مال واجب ہوجائے گا۔
واما الاقرار فالھزل یبطلہ:-ہزل کی تین قسموں میں سے مصنف انشا ء کے بیان سے فارغ ہو کر دوسری قسم اخبار کا بیان کررہے ہیں ، اگر کسی نے ہزل ومذاق کے طریقہ پر اقرار کیا، خواہ ان معاملات کا اقرار ہو جو فسخ کا احتمال نہیں رکھتے جیسے طلاق ،عتاق وغیرہ،یا ان معاملات کا ہوجو فسخ کا احتمال رکھتے ہیںجیسے بیع وغیرہ تو یہ اقرار باطل ہوجائے گا ،مثلاًدو آدمی یہ طے کریں کہ ہم لوگوں کے سامنے مذاقاً بیع کا اقرار کریں گے ،حالانکہ حقیقت میں ہمارے درمیان کوئی بیع نہیں ہے ،تو ہزل ومذاق کی وجہ سے ان معاملات میں اقرار باطل ہوجائے گا،کیونکہ ہزل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مخبربہ معدوم ہے،اس لئے کہ انہوں نے ازراہِ مذاق خبر دی ہے،اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے،اور اقرار مخبربہ کے وجود پرمبنی ہے یعنی مخبربہ ( جس کی خبر دے رہا ہے،)موجود ہوگا تو اقرار درست ہوگا،ورنہ نہیں،پس ہزل ومذاق کے طریقہ پر مخبربہ کا اثبات نہ ہوگا،اس لئے کہ یہ محض مذاق ہے ،ماضی میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ، لہٰذا اقرار باطل ہوجائے گا۔
مصنفؒ فرماتے ہیں کہ ہزل ومذاق سے جیسے اقرار باطل ہوجاتا ہے ،ایسے ہی طلب ِمواثبہ اور طلب ِاشہاد کے بعد تسلیم ِشفعہ بھی باطل ہوجائے گا،جس کی تفصیل یہ ہے کہ طلب ِشفعہ تین طریقہ پر ہے، (۱)طلبِ مواثبہ، وہ یہ ہے کہ شفیع بیع کا علم ہوتے ہی مطالبہ کرے حتی کہ اگر بیع کا علم ہونے کے بعد اس نے طلب میں تاخیر کی تو شفعہ باطل ہوجائے گا، (۲)دوسرے طلب ِتقریر واشہاد، وہ یہ ہے کہ شفیع طلب ِمواثبہ کے بعد بائع یا مشتری یازمین کے پاس طلب ِشفعہ پر گواہ بنائے کہ دیکھو اس زمین کا میں حق شفعہ رکھتا ہوں اور میرے پڑوسی نے دوسرے کے ہاتھ بیچ دی، تم گواہ رہو کہ میں شفعہ طلب کرتا ہوں، اس طلب سے شفعہ ثابت ہوجائے گا حتی کہ اس کے بعد تاخیر سے باطل نہ ہوگا، (۳)تیسرے طلب ِخصومت، وہ یہ ہے کہ شفیع قاضی کے سامنے مقدمہ دائر کرے کہ یہ مکان فلاں نے خریدا ہے، حالانکہ میں حقِ شفعہ رکھتا ہوں، لہٰذا مجھے دلوایا جائے __ اس تفصیل کے بعد مسئلہ سمجھئے کہ شفیع نے طلبِ مواثبہ اور طلب ِ