کَفَّارَۃِ الْیَمِیْن لٰکِنَّہٗ لَمَّا کَانَ مِنَ الْاٰحَادِ فِی الْاَصْلِ ثَبَتَ بِہٖ شُبْھَۃٌ سَقَطَ بِھَا عِلْمُ الْیَقِیْنِ۔
ترجمہ:-اور (دوسری قسم) خبرِ مشہور ہے، اور خبر ِمشہور وہ ہے جو اصل (قرنِ صحابہ) میں آحاد میں سے ہو، پھر وہ پھیل گئی ہو، پس اس کو نقل کرنے لگی ایسی قوم جن کے جھوٹ پر متفق ہونے کا وھم نہیں کیا جاتا اور وہ قوم (ناقل) قرنِ صحابہ اور وہ لوگ ہیں جوان کے بعد ہیں (یعنی تابعین اور تبع تابعین) اوریہ لوگ ثقہ ہیں، ائمۃ حدیث ہیں ، غیر متہم بالکذب ہیں، پس یہ خبر ان کی شہادت اور تصدیق سے متواتر کے درجہ میں ہوگئی ، یہاں تک کہ امام جصاص نے کہا کہ خبرِ مشہور ، متواتر کی دو قسموں میں سے ایک ہے، اور عیسی بن ابان نے کہا کہ خبرِ مشہور کے منکر کو گمراہ قرار دیا جائے گا، اور کافر نہیں قرار دیا جائے گا، اور یہی صحیح ہے ہمارے نزدیک، اس لئے کہ مشہور سلف کی شہادت سے متواتر کے درجہ میں حجت ہوگئی اس پر عمل کئے جانے کے لئے تو اس کے ذریعہ کتاب اللہ پر زیادتی صحیح ہے، اور یہ (زیادتی ) ہمارے نزدیک نسخ ہے، اور یہ جیسے رجم کی زیادتی اور مسح علی الخفین کی زیادتی ، اور کفارۂ یمین میں تتابع کی زیادتی، لیکن خبرِ مشہور جب کہ ابتداء میں آحاد میں سے ہے تو اس کی وجہ سے ایسا شبہ ثابت ہوگیا جس سے علمِ یقین ساقط ہوگیا۔
------------------------------
تشریح:-مسند کی دوسری قسم مشہور ہے، اس کا دوسرا نام مستفیض بھی ہے ، خبرِ مشہور اس خبر کو کہتے ہیں جو اصل میں یعنی دورصحابہ میں خبر ِواحد ہو ،مگر قرنِ ثانی اور ثالث یعنی دور تابعین اور تبع تابعین میں اس کے روایت کرنے والوں کی تعداد اتنی ہوجائے کہ ان کا جھوٹ پر متفق ہونامحال ہو، مگر یہ بات یاد رکھیں خبرِ مشہور کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرنِ ثانی اور ثالث میں تواتر کی حد کو پہنچی ہو، ان دو قرنوں کے بعد کی شہرت کا اعتبار نہیں ہے، کیونکہ ان دو قرنوں کے بعد تدوینِ حدیث کی وجہ سے اخبار ِآحاد بھی مشہور ہوگئی ہیں حالانکہ ان کو مشہور نہیں کہا جاتا بلکہ اخبار آحاد ہی ہیں۔
واولئک قوم ثقات:-ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ خبر مشہور دور صحابہ میں یعنی قرنِ اول میں خبرِ واحد تھی پھر دور ثانی اور ثالث میں وہ مشہور ہوگئی تو اس کو خبر واحد پر ترجیح کیوں دی گئی حالانکہ یہ اصلاً خبر واحد ہی ہے،__اس کا جواب یہ ہے کہ حدیثِ شریف میں قرن ثانی وثالث کے لوگوں کی عدالت کی شہادت دی گئی ہیں ،خیر القرون قرنی الخ لہٰذا قرنِ ثانی وثالث کے حضرات ثقہ ہیں ، غیر متہم بالکذب ہیں ،تو جب ایسے حضرات نے حدیث کی شہادت دیدی اور تصدیق کردی تو یہ حدیث متواتر کے درجہ میں ہوگئی ،اس کے برخلاف خبرِ واحد کے کہ اس کو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہے، اس لئے خبر مشہور کو ترجیح دی گئی۔
اسی لئے (کہ خبر مشہور متواتر کے درجہ میں پہنچ گئی )امام ابوبکر جصاص نے اس کو متواتر ہی کی ایک قسم قرار دیا،