کر حدیث روایت کرتا ہے، برخلاف مسند کے کہ اس میں راوی کو کامل وثوق نہیں ہوتا اسی لئے وہ اس کو اپنے سر لینا نہیں چاہتا بلکہ وہ اپنے استاذ کانام لیکر اور استاذ کی طرف حدیث کو منسوب کرکے اپنے ذمہ کو فارغ کردیتا ہے۔
ولکن ھذا ضرب مزیۃ:-ایک اعتراض کا جواب ہے جس کی تقریر یہ ہے کہ جب مرسل مسند سے بڑھ کر ہے اور مسند کی تین قسمیں ہیں، متواتر ، مشہور، آحاد، اور مسند سے مرسل کا درجہ بڑھا ہوا ہے تو اعلی نہ سہی کم از کم متوسط یعنی مشہور کے درجہ میں ہوگی اور خبر مشہور سے کتاب اللہ کا نسخ جائز ہے تو مرسل سے بھی جائز ہونا چاہیے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ مرسل کی فوقیت وفضیلت مسند پر چونکہ اجتہاد اور رائے سے ثابت ہوتی ہے، اس لئے نسخ جائز نہیں تاکہ رائے اور قیاس سے کتاب اللہ کا نسخ لازم نہ آئے ، برخلاف مسند مشہور کے کہ اس کی فضیلت و قوت رائے اور اجتہاد سے نہیں بلکہ نص سے ثابت ہوتی ہے اس لئے مشہور سے کتاب اللہ پر نسخ وزیادتی جائز ہے۔
واما مراسیل من دون ھؤلاء:-صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے بعد کے لوگوں کی مرسل روایتوں کے قبول ورد میں خودعلمائے احناف میں اختلاف ہے، بعض علمائے احناف جیسے امام کرخیؒ وغیرہ کہتے ہیں کہ ان مراسیل کو قبول کیا جائے گا کیونکہ قرون ثلثہ کے مراسیل کو قبول کرنے کی جو علت ہے یعنی ان کا عادل ہونا وغیرہ وہ بعد کے لوگوں میں بھی ہے، اور بعض مشائخ احناف جیسے عیسی بن ابان وغیرہ کہتے ہیں کہ ان کی مراسیل قبول نہیں کی جائے گی، کیونکہ قرونِ ثلثہ کے بعد کا زمانہ فسق وفجور کا زمانہ ہے، کیونکہ حضورﷺنے ان کی عدالت کی شہادت نہیں ہے، صرف تین زمانوں کی شہادت دی ہے خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم
الاان یروی الثقات:-مصنفؒ کہتے ہیں کہ قرونِ ثلثہ کے بعد کے لوگوں کی مراسیل میں اسی وقت اختلاف ہے جب کہ ثقہ لوگ ان کے مراسیل کو روایت نہ کرتے ہوں، ورنہ اگر ثقہ لوگ ان کی مراسیل کو اسی طرح روایت کرتے ہوں جس طرح ان کی مسانید کو روایت کرتے ہیں، تو ان کے مراسیل کو قرون ِثلثہ کے مراسیل کی طرح بالاتفاق قبول کرلیا جائے گا جیسے امام محمدؒ اور ان جیسوں کے مراسیل مقبول ہیں۔
اس جگہ امام محمدؒ کو مثال میں پیش کرنا درست نہیں کیونکہ امام محمد قرونِ ثلثہ میں ہیں، تبعِ تابعین میں ہیں، قرون ثلثہ کے بعد کے لوگوں میں نہیں ہیں۔
وقال الشافعیؒ لااقبل:-امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ میں صرف صحابہ کے مراسیل قبول کرتا ہوں، ان کے بعد والوں کے نہیں، البتہ اگر حجت ِقطعیہ یا قیاس ِصحیح وغیرہ سے ان مراسیل کی تائید ہوجائے تو وہ مقبول ہیں،امام شافعی ؒ نے اپنے قول لااقبل سے سعید بن المسیب (جو کہ تابعی ہیں) کے مراسیل کا استثناء کیا اور فرمایا کہ صحابہ کے بعد کے لوگوں میں صرف سعید بن المسیب کے مراسیل قبول کرتا ہوں ،وجہ اس کی یہ ہے کہ جب میں