آئے ۔
اور صاحبین کہتے ہیں کہ مجاز حقیقت کا خلیفہ حکم اور معنی میں ہے ،کیونکہ کلام میں اصل معنی اور حکم ہی ہوتا ہے،لفظ تو صرف وسیلہ ہوتا ہے، لہٰذا جب حکم میں خلیفہ ہے تو حقیقت کا معنی کے لحاظ سے صحیح اور ممکن الوجود ہونا ضروری ہے،لہٰذا ۱گر حقیقی معنی ممکن الوجود ہو اور کسی عارض کی وجہ سے وہ معنی مراد نہ لئے جاسکے تو کلام کو مجاز کی طرف پھیرا جائے گا،اور اگر حقیقت کا معنی ممکن ہی نہ ہو تو کلام لغو ہوجائے گا اس کو مجاز کی طرف نہیں پھیر ا جائے گا ۔
مثال سے سمجھو ،ایک بیس سالہ مولی نے اپنے ساٹھ سالہ غلام سے کہا ھذاابنی یہ میرا بیٹا ہے ،تو امام صاحب کے نزدیک یہ کلام عربیت اور ترکیب ِ نحوی کے لحاظ سے صحیح ہے،مبتدا خبر ہے ،اگر چہ اس کے معنی ممکن الوجود نہیں ہیں،کیونکہ باپ چھوٹا اور بیٹا عمر میں بڑانہیں ہوسکتا ہے،مگر تکلم میں کلام صحیح ہے تو کلام کو لغو نہیں کریں گے بلکہ اس کو مجاز کی طرف پھیر دینگے اور اس کا مجازی معنی حریت ہے ،آزاد ہونا ہے،یہ مجاز اس لئے ہے کہ بنوت کو حریت لازم ہے ، یعنی بیٹا ہمیشہ آزاد ہوتا ہے ،پس ھذاابنیجب اس سے بیٹا ہونا مراد ہو ملزوم ہوا،اور ھذاابنیجب اس سے آزاد ہونا مراد لیا جائے لازم ہوا ملزوم بولکر لازم مراد لیا اور یہی مجاز ہے،پس ’’ھذاابنی‘‘ سے ’’ھذاحر‘‘ مراد لیا جائے گا اور وہ ساٹھ سالہ غلام آزاد ہوجائے گا۔
صاحبین کے نزدیک ’’ھذا ابنی‘‘ کے معنی ہی صحیح نہیں ہیں ،یہ ممکن الوجود ہی نہیں، اس لئے کہ بیٹا عمر میں باپ سے بڑا نہیں ہوسکتاہے ،لہٰذا یہ کلام لغو ہوجائے گا ،اس کو مجاز کی طرف نہیں پھیرا جائے گا ،کیونکہ مجاز حقیقت کا خلیفہ حکم میں ہے تو حقیقت کا حکم اور معنی ممکن ہونا ضروری ہے ،اور یہاں ھذا ابنی کا معنی ممکن الوجود نہیں ہے، لہٰذا کلام لغو ہوجائے گا۔
واعتبر الرجحان:-جب یہ اصل مختلف فیہ آپ سمجھ گئے کہ امام صاحب کے نزدیک مجاز حقیقت کا خلیفہ تکلم میں ہے اور صا حبین کے نزدیک حکم میں خلیفہ ہے ،تو مصنف ؒ اب اصل مسئلہ میں اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امام صاحب تکلم میں ترجیح کا اعتبار کرتے ہیں یعنی اگر حقیقت پر عمل ممکن ہوتو تکلم بالحقیقہ ،تکلم بالمجاز کی بنسبت اولی اور راحج ہے کیونکہ مجاز حقیقت کا خلیفہ تکلم میں ہے اور تکلم بالحقیقہ جب اس پر عمل ممکن بھی ہوتو یہ تکلم بالمجاز پر راحج ہے،لہٰذا حقیقت مستعملہ کو مجاز متعارف پر ترجیح ہوگی ۔
اور صاحبین کے نزدیک چونکہ مجاز حقیقت کا خلیفہ حکم کے لحاظ سے ہے، اور حکم میں مجاز کو ترجیح حاصل ہے،اس لئے کہ مجازی معنی ایسے عام ہیں کہ حقیقی معنی بھی اس میں داخل ہوجاتے ہیں ،جیسے عموم ِمجازمیں،اور اگر مجاز متعارف ہے تو بھی مجاز کو ترجیح حاصل ہے اس لئے کہ مجاز حقیقت کی بنسبت زیادہ مستعمل ہے ،لہٰذا مجاز مراد لینا زیادہ اولی ہوگا،