اور صاحبین مجاز متعارف مراد لیتے ہیں،لہٰذا منہ لگاکر پئے ،چلو سے پئے یا برتن سے پئے ،بہر صورت حانث ہوجائے گا ،کیونکہ مجاز متعارف میں ہر طرح سے پینا داخل ہے۔
وَھٰذَا یَرْجِعُ اِلٰی اَصْلٍ وَھُوَ اَنَّ الْمَجَازَ خَلَفٌ عَنِ الْحَقِیْقَۃِ فِی التَّکَلُّمِ عِنْدَ اَبِی حَنِیْفَۃَ حَتّٰی صَحَّتِ الْاِسْتَعَارَۃُ بِہٖ عِنْدَہٗ وَاِنْ لَمْ یَنْعَقِدْ لِاِیْجَابِ الْحَقِیْقَۃِ کَمَا فِی قَوْلِہٖ لِعَبْدِہٖ وَھُوَ اَکْبَرُ سِنَّا مِنْہُ ھٰذَا ابْنِیْ فَاعْتَبَرَ الرُّجْحَانَ فِی التَّکَلُّمِ فَصَارَتِ الْحَقِیْقَۃُ اَوْلٰی وَعِنْدَھُمَا الْمَجَازُ خَلَفٌ عَنِ الْحَقِیْقَۃِ فِی الْحُکْمِ وَفِی الْحُکْمِ لِلْمَجَازِ رُجْحَانٌ لِاِشْتِمَالِہٖ عَلٰی حُکْمِ الْحَقِیْقَۃِ فَصَارَاَوْلٰی
ترجمہ:-اور یہ اختلاف لوٹتا ہے ایک اصل کی طرف اور وہ یہ کہ مجاز حقیقت کا خلیفہ ہے تکلم میں امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک، یہاں تک کہ صحیح ہے کلام سے استعارہ امام صاحب کے نزدیک، اگر چہ وہ کلام منعقد نہ ہوا ہو حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے ،جیسا کہ آقا کے قول میں اپنے غلام سے درا نحا لیکہ وہ غلام عمر میں اس سے بڑا ہو ھذا ابنی یہ میرا بیٹا ہے،پس امام صاحب نے اعتبار کیا تکلم میں رجحان کا تو حقیقت اولی ہوگی ،اور صاحبین کے نزدیک مجاز حقیقت کا خلیفہ ہے حکم کے اندر ،اور حکم میں مجاز کو ترجیح ہے ،مجاز کے مشتمل ہونے کی وجہ سے حقیقت کے حکم پر پس مجاز اولی ہوگا۔
------------------------------
تشریح:-مصنفؒ کہتے ہیں کہ اوپر جو امام صاحب اور صاحبین ؒ کے درمیان حقیقت ومجاز میں اختلاف گزرا ،وہ دراصل ایک دوسرے مختلف فیہ اصل پر مبنی ہے ،وہ دوسری اختلافی اصل یہ ہے کہ امام صاحب اور صاحبین کے درمیان اس سلسلہ میں اختلاف ہے کہ مجاز حقیقت کا خلیفہ کس جہت سے ہے؟حقیقت اصل ہے،مجاز خلیفہ ہے، اس میں تو سب کا اتفاق ہے، البتہ جہت میں اختلاف ہے۔
امام صاحب فرماتے ہیں کہ مجاز حقیقت کا خلیفہ تکلم میں ہے یعنی حقیقت کا تکلم اصل ہے اور مجاز کا تکلم خلیفہ ہے ،لہٰذا امام صاحب کے نزدیک اگر حقیقت کا تکلم صحیح ہو یعنی حقیقت عربی قاعدے کے لحاظ سے اور ترکیب نحوی کے اعتبار سے صحیح ہو ،تو اس کے تکلم کا صحیح ہو نا مجاز کی طرف رجوع کرنے کے لئے کا فی ہے، چاہے خارج میں اس کا وجود نہ ہو ،اس کا معنی اور حکم نہ پایا جاتا ہو،حقیقت پر عمل ممکن نہ ہو ،تو امام صاحب کے نزدیک اس کلام کو لغو ہونے سے بچانے کے لئے اس کو مجاز کی طرف پھیر دیا جائے گا ،غرض امام صاحب کے نزدیک حقیقت کا لفظی اعتبار سے صحیح ہونا کافی ہے ،کیونکہ حقیقت مجاز اصل میں لفظ ہی کے اوصاف ہیں ،لہٰذا لفظ اور تکلم کا اعتبار ہوگا ،پھر تکلم میں صحیح ہونے کے ساتھ اگر اس کا معنی بھی صحیح ہے تو یہی مراد ہوگا اور اس کا معنی ممکن الوجود نہیں ہے تو مجاز مراد لیا جائے گا، تاکہ کلام کا لغو ہونا لازم نہ