ساتھ مقید ہوگی ، تفصیل کے لئے مطولات کی طرف رجوع کریں۔
فَاِنْ کَانَ اللَّفْظُ لَہٗ حَقِیْقَۃٌ مُسْتَعْمَلَۃٌ وَمَجَازٌ مُّتَعَارَفٌ کَمَا اِذَا حَلَفَ لَایَاکُلُ مِنْ ھٰذِہِ الْحِنْطَۃِ اَوْلَا یَشْرَبُ مِنْ ھٰذِہِ الْفُرَاتِ فَعِنْدَ ابی حَنِیْفَۃَ الْعَمَلُ بِالْحَقِیْقَۃِ اَوْلٰی وَعِنْدَھُمَا الْعَمَلُ بِعُمُوْمِ الْمَجَازِ اَوْلٰی
ترجمہ:-پس اگر لفظ کے لئے حقیقت مستعملہ اور مجاز متعارف ہو، جیسے کہ جب قسم کھائی کہ وہ نہیں کھائے گا اس گیہوں سے ،یا نہیں پئے گا اس فرات سے ،توامام ابوحنیفہ کے نزدیک حقیقت پر عمل کرنا اولی ہے اور صاحبین کے نزدیک عموم مجاز پر عمل کرنا اولی ہے
------------------------------
تشریح:-مصنف ؒ ایک اختلافی مسئلہ بیان کررہے ہیں کہ ایک لفظ ایساہے کہ اس کے حقیقی معنی بھی مستعمل ہیں،اور اس کے لئے مجاز متعارف بھی ہے،تو اس وقت لفظ سے کون سے معنی مراد لئے جائیں گے ،امام ابو حنیفہ کے نزدیک حقیقی معنی مراد لینا زیادہ بہتر اوراولی ہے،اور صاحبین کہتے ہیں کہ مجاز متعارف زیادہ بہتر ہے،مصنف ؒنے اس کی دومثالیں بیان کی ہیں۔
پہلی مثال:-کسی نے قسم کھائی کہ اس گیہوں سے نہیں کھائے گا ،تو اس کے حقیقی معنی خود گیہوں کو کھانا،اور یہ معنی مستعمل ہیں،لوگ گیہوں کو بھون کر اور اُبال کر کھاتے ہیں،اور مجازی معنی گیہوں سے بنی چیز روٹی وغیرہ کھانا ہے،اور یہ معنی بھی متعارف ہیں،جیسے محاورہ ہے کہ فلاں علاقہ کے لوگ گیہوں زیادہ کھاتے ہیں،مطلب روٹی کھاتے ہیں ، __ تو امام صاحب کے نزدیک حقیقی معنی مراد ہوں گے، کیونکہ حقیقت مستعمل ہے ،لہٰذا گیہوں بھون کر یا ابال کر کھائے گا تو حانث ہوجائے گا،روٹی کھانے سے حانث نہیں ہوگا۔
اور صاحبین کے نزدیک مجازِ متعارف مراد ہوگا ،لہٰذا گیہوں کھانے سے بھی اور روٹی کھانے سے بھی حانث ہوجائے گا کیونکہ مجازی معنی ایسے عام ہیں کہ حقیقت بھی اس میں داخل ہے ،البتہ ستو کھانے سے حانث نہ ہوگا کیونکہ ستو عرف میں دوسری جنس ہے ۔
دوسری مثال:-کسی نے قسم کھائی کہ اس نہر سے نہیں پئے گا ،تو اس کے حقیقی معنی ہیں ،نہر سے منہ لگاکر پینا اور یہ مستعمل ہے ،دیہاتوں میں لوگ نہر سے منہ لگاکر پیتے ہیں ،اور مجازی معنی ہے چلو سے پینا یابرتن سے پینا ،اور یہ معنی بھی متعارف ہے،__تو امام صاحب نے حقیقی معنی مراد لئے ،لہٰذا منہ لگا کر پینے سے حانث ہوجائے گا ،برتن یا چلو سے پینے سے حانث نہ ہوگا ۔