شرعاً،اور جو چیز شرعا مہجور ہو وہ عادۃًمہجور کے درجہ میں ہے ،کیا تو نہیں دیکھتا ہے کہ اگر کسی نے قسم کھائی کہ وہ بات نہیں کرے گا اس بچہ سے، تو یہ قسم نہیں مقید ہوگی اس کے بچپن کے زمانے کے ساتھ ،اس لئے کہ بچہ کو چھوڑنا یعنی اس سے ترک تکلم شرعا مہجور ہے۔
------------------------------
تشریح:-اوپر اصول بتایا کہ حقیقت جب مہجور ہوتو مجاز مراد لیا جائے گا ،مصنف ؒاس کی دو مثالیں ذکر کررہے ہیں،
پہلی مثال:-زید نے خالد پر ایک ہزار کا دعوی کیا تو زید مُدَّعِی اور خالد مدعی علیہ ہوا،اب خالد نے اپنی طرف سے خصومت کے لئے راشد کو وکیل بنایا ،تو راشد وکیل بالخصومۃ ہوا،اب وکیل بالخصومۃ بننے کا حقیقی معنی یہ ہیں کہ وکیل اپنے مؤکل یعنی خالد کی طرف داری کرے ،حمایت کرے ،چاہے وہ صحیح ہو یا غلط، خالدکی موافقت میں صرف انکار ہی کرتا رہے،اقرار نہ کرے_ _مگر یہ حقیقی معنی شرعاً مہجور ہے کیونکہ شرعاً بے جاطر فداری جائز نہیں،اور جو چیز شرعاً مہجور ہو وہ بمنزلہ عادۃً مہجور کے ہے ،اس لئے کہ مسلما ن کی شان سے یہ بعید ہے کہ شرعا جو چیز جائز نہ ہو اس کو اپنی عادت وعمل بنائے بلکہ وہ اس کو چھوڑ دے گا ،پس جب شرعاً حقیقی معنی متروک ہیں، تو اس کے مجازی معنی مراد لئے جائیں گے ۔
اور توکیل بالخصومت کے مجازی معنی یہ ہیںکہ وکیل مطلق جواب دے ،مدعی کے دعوی پر نعم یالا سے جواب دے،یعنی ہاں کہہ کر مدعی کے دعوی کو ثابت کرے اور اپنے مؤکل پر ہزار روپئے لازم کرے یا لا کہہ کر مدعی کے دعوی کو رد کرے اور اپنے مؤکل پر ہزار روپئے کا انکار کرے ،تو مجازی معنی یہ ہوںگے کہ وکیل اپنے مؤکل کی حمایت نہ کرے بلکہ مطلق جواب دے ،چاہے اس کے موافقت میں ہو یا اس کے خلاف ، اور یہی معنی یہاں مراد لئے جائیں گے۔
دوسری مثال:-کسی نے قسم کھائی لا یکلم ھذا الصبیکہ وہ اس بچہ سے بات نہیں کرے گا تو اس کلام کے حقیقی معنی ہے کہ قسم اس کے بچپن کے زمانہ کے ساتھ خاص ہو یعنی اس کے بچہ ہونے کی حالت میں بات نہیں کرونگا مگر یہ معنی شرعا متروک ہے،اس لئے کہ حدیث میں فرمایا من لم یرحم صغیرنا فلیس منا-معلوم ہوا کہ بچہ سے ترکِ تعلق حرام ہے اور شرعاً متروک عادۃً متروک کے درجہ میں ہے،لہٰذا یہاں حقیقی معنی مراد نہیں لیں گے بلکہ مجازی معنی مراد لئے جائیں گے اور مجازی معنی ہیں ،بچہ سے اس کی ذات مراد ہے یعنی اس کی ذات سے بات نہ کرونگا ،لہٰذا بچپن میں اس کی جوانی میں ،یا بوڑھا پے میں جب بھی بات کرے گا حانث ہوجائے گا ،کیونکہ ذات ہر وقت موجود ہے،پس یہاں حقیقت مہجور ہونے کی وجہ سے مجاز مراد لیا گیا۔
مگر یہ اس صورت میں ہے جب کہ اس نے ’’ھذا الصبی‘‘ کہا ہو،اگر صبیاً کہا تو پھر قسم اس کے بچپن کے