نیت کی تو دونوں صورتوں میں دیانۃ نیت معتبر ہوگی،قضاء ً معتبر نہیں ہوگی۔
امام صاحب فی کے ذکراور حذف میں فرق کرتے ہیں ،چنانچہ فی کو ذکر کرنے کی صورت میں فی کا مابعد ماقبل کے لئے ظرف ہوگا،معیار نہ ہوگا،اور فی کو حذف کر نے کی صورت میں مابعد ماقبل کے لئے معیار ہوگا،لہٰذا انت طالق غدًا کہہ کر اگر شوہر نے کوئی نیت نہیں کی، تو اول غد میں طلاق واقع ہوگی،اور اگر آخر غد کی نیت کی ہے تو قضا ء ً اور دیانۃً نیت معتبر ہوگی۔
امام صاحب کے مذہب پر اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر کسی نے کہا ’’ان صمت الدھر فعبدی حر‘‘تو یہ قسم ابد پر واقع ہوگی،پس حالف نے زندگی بھر روزے رکھے تو غلام آزاد ہوگا ،ورنہ نہیں،اور اگر’’ ان صمت فی الدھر‘‘ کہا تو یہ قسم ایک ساعت کے روزے پر واقع ہوگی،پس اس نے روزہ کی نیت کرکے تھوڑی دیر روزہ رکھ کر افطار کرلیا تو بھی حانث ہوجائے گا۔
اگرفی کاحقیقی معنی متعذر وتو مجازًا فی مقارنت کے لئے ہوگا ،جیسے کسی نے کہا’’انت طالق فی دخولک الدار‘‘تو دخول طلاق کے لئے ظرف نہیں بن سکتا ہے،اس لئے فی مقارنت کے لئے ہوگا،اور مطلب یہ ہوگا کہ تجھ کو اس حال میںطلاق ہے کہ یہ طلاق تیرے دخولِ دار کے ساتھ مقارن ہو،پس دخولِ دار سے طلاق پڑجائے گی،کیونکہ دخول دار سے پہلے طلاق کے دخولِ دار سے مقارن نہ ہونے کی وجہ سے طلاق نہ پڑے گی۔
وَمِنْ ذٰلِکَ حُرُوْفُ الشَّرْطِ وَحَرْفُ اِنْ ھُوَ الْاَصْلُ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ وَاِذَا یَصْلَحُ لِلْوَقْتِ وَالشَّرْطِ عَلَی السَّوَاءِ عِنْدَ الْکُوْفِیِّیْنَ وَھُوَ قَوْلُ اَبِیْ حَنِیْفَۃَؒ وَعِنْدَ الْبَصْرِیِیْنَ وَھُوَ قَوْلُھُمَا ھِیَ لِلْوَقْتِ وَیُجَازٰی بِھَا مِنْ غَیْرِ سُقُوْطِ الْوَقْتِ عَنْھَا مِثْلُ مَتٰی فَاِنَّھَا لِلْوَقْتِ لَایَسْقُطُ عَنْھَا بِحَالٍ وَالْمُجَازَاۃُ بِھَا لَازِمَۃٌ فِیْ غَیْرِ مَوْضِعِ الْاِسْتَفْھِامِ وَبِاِذَا غَیْرُ لاَزِمَۃٍ بَلْ ھِیَ فِیْ حَیِّزِ الْجَوَازِ۔
ترجمہ:-اور حروفِ معانی میں سے حروف ِشرط ہیں،اور حرف ِاِنْ ہی اس باب میں اصل ہے۔ اور اِذَا وقت اور شرط دونوں کے لئے مساوی طور پر صلاحیت رکھتا ہے کوفیین کے نزدیک، اور یہی امام ابوحنیفہؒ کا قول ہے، اور بصریین کے نزدیک اور یہی صاحبین کاقول ہے کہ اِذَا وقت کے لئے ہے، اور اس کے ساتھ جزاء لائی جاتی ہے(یعنی اذا شرط کے معنی میں استعمال ہوتا ہے)اس سے وقت کے معنی ساقط ہوئے بغیر، جیسے متی،اس لئے کہ متی وقت کے لئے ہے،متی سے وقت کے معنی کسی حال میں ساقط نہیں ہوتے ،اور متی کے ساتھ مجازات لازم ہے موضعِ استفہام کے علاوہ