ظرف کے لئے ہے۔
نحاۃِ بصرہ کہتے ہیں اور یہی صاحبین کا بھی قول ہے کہ اذا کے حقیقی معنی صرف وقت کے ہیں،یعنی ظرفیت کے لئے ہے، البتہ کبھی مجازاً متی کی طرح شرط کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے مگر ظرفیت کے معنی بھی باقی رہتے ہیں،کیونکہ متی بھی ظرفیت کے لئے آتا ہے، اور استفہام کے علاوہ میں متی کے لئے شرط کے معنی لازم ہیں، صرف استفہام میں متی کے اندر شرط کے معنی نہیں ہوتے جیسے ’’متی تسافر ‘‘، اور استفہام کے علاوہ میں متی کے لئے شرط کے معنی لازم ہیں، اور اذا کے لئے شرط کے معنی لازم نہیں ہیں بلکہ جواز کے درجہ میں ہے توجب متی کے لئے شرط کے معنی لازم ہیں اس کے باوجود متی سے ظرفیت ساقط نہیں ہوتی تو اذا کے لئے تو شرط کے معنی لازم نہیں ہیں ،تو اذاسے ظرفیت کے معنی بدرجہ اولی ساقط نہ ہوں گے۔
وَمَنْ وَمَا وَکُلُّ وَکُلَّمَا تَدْخُلُ فِیْ ھٰذَا لْبَابِ وَفِیْ کُلِّ مَعْنَی الشَّرْطِ اَیْضًا مِنْ حَیْثُ اَنَّ الْاِسْمَ الَّذِیْ یَتَعَقَبُھَا یُوْصَفُ بِفِعْلٍ لاَمحَالَۃَ لِیَتِمَّ الْکَلَامُ وَھِیَ تُوْجِبُ الْاِحَاطَۃَ عَلٰے سَبِیْلِ الْافْرَادِ وَمَعْنَی الْاِفْرَادِ اَنْ یُعْتَبَرَکُلُّ مُسَمّٰی بِاِنْفِرَادِہٖ کَاَنَّ لَیْسَ مَعَہٗ غَیْرُہٗ۔
ترجمہ :-اور من ،ما،کل اور کلما داخل ہیں باب شرط میں،اور کل میں بھی شرط کے معنی ہیں،اس حیثیت سے کہ وہ اسم جو کل کے بعد ہوتا ہے وہ لامحالہ فعل کے ساتھ متصف ہوتا ہے،تاکہ کلام تام ہوجائے ،اور کلمۂ کل علی سبیل الافراد احاطہ کو واجب کرتا ہے،اور افراد کے معنی یہ ہیں کہ ہرفرد کا الگ الگ لحاظ کیا جائے گویا کہ اس کے ساتھ اس کا غیر نہیں ہے۔
------------------------------
تشریح :-مصنفؒ فرماتے ہیں کہ من،ما،کل اور کلما چاروں کلماتِ شرط ہیں،من ذوی العقول کے لئے آتا ہے،اور ماغیر ذوی العقول کے لئے آتا ہے،اور کلما عموم افعال کو ثابت کرتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ’’کلما نضجت جلودھم،میں ہے۔
کلمۂ کل کے بارے میں یہ وہم ہوسکتا ہے کہ کل کو کلماتِ شرط میں شمار کرنا درست نہیں ہے،اس لئے کہ کلماتِ شرط کا فعل پر داخل ہونا ضروری ہے،اور کل اسم پر داخل ہوتا ہے،اس وہم کو دور کرنے کے لئے مصنفؒ نے فرمایا کہ کل میں بھی شرط کے معنی ہیں،کیونکہ کلمۂ کل اگر چہ براہِ درست فعل پر داخل نہیں ہوتا ہے مگر بواسطہ اسم وہ فعل پر داخل ہوتا ہے ، اس لئے کہ کلمۂ کل جس اسم پر داخل ہوتا ہے اس اسم کے بعد فعل آتا ہے جو اس اسم کی صفت ہوتا ہے ، جیسے کل رجل یفوض امرہ الی اللہ فھو سعید، ہر وہ آدمی جو اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کرے وہ نیک بخت ہے