وَاِلٰی مَاھُوَ شَبِیْہٌ بِالْعِلَلِ وَلَمَّا کَانَ مُتَرَاخِیًا اِلٰی وَصْفٍ لَا یَسْتَقِلُّ بِنَفْسِہٖ اَشْبَہَ الْعِلَلَ وَکَانَ ھٰذِہٖ الشُّبْھَۃُغَالِبًالِاَنَّ النِّصَابَ اَصْلٌ وَالنُّمَاءَ وَصْفٌ وَمِنْ حُکْمِہٖ اَنَّہٗ لَا یَظْھَرُ ُوجُوْبُ الزَّکٰوۃِ فِیْ اَوَّلِ الْحَوْلِ قَطْعًا بِخِلَافِ مَاذَکَرْنَا مِنَ الْبُیُوْعِ وَلَمَّا اَشْبَہَ الْعِلَلَ وَکَانَ ذٰلِکَ اَصْلًا کَانَ الْوُجُوْبُ ثَابِتًا مِنَ الْاَصْلِ فِی التَّقْدِیْرِ حَتّٰی صَحَّ التَّعْجِیْلُ لٰکِنَّہٗ یَصِیْرُ زَکٰوۃًبَعْدَالْحَوْلِ وَکَذٰلِکَ مَرَضُ الْمَوْتِ عِلَّۃٌ لِتَغَیُّرِ الْاَحْکَامِ اِسْمًا وَمَعْنًے اِلَّا اَنَّ حُکْمَہٗ یَثْبُتُ بِہٖ بِوَصْفِ الْاِتِّصَالِ بِالْمَوْتِ فَاَشْبَہَ الْاَ سْبَابَ مِنْ ھٰذَا الْوَجْہِ وَھُوَ عِلَّۃٌفِی الْحَقِیْقَۃِوَھٰذَا اَشْبَہُ بِالْعِلَلِ مِنَ النِّصَابِ وَکَذٰلِکَ شِرَاءُ الْقَرِیْبِ عِلَّۃٌ لِلْعِتْقِ لٰکِنْ بِوَاسِطَۃٍ ھِیَ مِنْ مُوْجَبَاتِ الشِّرِیٰ وَھُوَالْمِلْکُ فَکَانَ عِلَّۃً یَشْبَہُ السَّبَبَ کَالرَّمِیْ۔
ترجمہ:-اور اسی طرح زکوۃ کا نصاب سال کے شروع میں علت ہے اسماً،اس لئے کہ نصاب وضع کیا گیا ہے زکوۃ واجب کرنے کے لئے ،اور علت ہے معنیً نصاب کے مؤثر ہونے کی وجہ سے وجوب زکوۃ کے حکم میں،اس لئے کہ غنا فقراء کی غمخواری کو واجب کرتا ہے، لیکن نصاب کو علت بنایا گیا صفتِ نماء کے ساتھ، پس جب نصاب کا حکم مؤخر ہوگیا ،تو نصاب اسباب کے مشابہ ہوگیا،کیا تو نہیں دیکھتا ہے کہ حکمِ نصاب مؤخر ہے ایسی چیز کی طرف جونصاب سے پیدا ہونے والی نہیں ہے ،اور ایسی چیز تک مؤخر ہے جوعلل کے مشابہ ہے ،اور جب حکم ایسے وصف تک مؤخر ہے جو مستقل بنفسہ نہیں ہے تو نصاب علل کے مشابہ ہوگیا،اور یہ مشابہت قوی ہے، اس لئے کہ نصاب اصل ہے اور نماء وصف ہے،اور نصاب کا حکم یہ ہے کہ وجوبِ زکوۃ اولِ حول میں بالکل ظاہر نہ ہوگا ،بر خلاف ان بیوع کے جن کو ہم ذکر کرچکے ہیں،اور جب نصاب علل کے مشابہ ہوگیا اور یہ مشابہت ہی اصل ہے تو تقدیرِ شرعی کے اعتبار سے وجوب ِزکوۃ اصل (ابتداء)ہی سے ثابت ہوگا، حتی کہ تعجیل صحیح ہے ،لیکن یہ (معجل )حول کے بعد زکوۃ بنے گی ،اور اسی طرح مرض الموت تغیر احکام کی علت ہے اسماًاور معنیً ،مگر مرض الموت سے مر ض الموت کا حکم موت کے ساتھ اتصال کے وصف سے ثابت ہوگاتو اس طرح سے مرض الموت اسباب کے مشابہ ہوگیا ،اور مرض الموت حقیقت میں علت ہے،اور مرض الموت علل کے زیادہ مشابہ ہے نصاب کے مقابلہ میں،اور اسی طرح شرائِ قریب عتق کی علت ہے ،لیکن ایسے واسطہ کی وجہ سے جو شراء کے مقتضیات میںسے ہے ،اور وہ (مُوْجَبْ)ملک ہے ،پس شرا ء ِقریب ایسی علت ہے جو سبب کے مشابہ ہے جیسے تیر پھینکنا۔