علت نہیں ہے کہ عقدِ اجارہ ہوتے ہی منفعت کا تحقق نہیں ہوتا بلکہ پوری مدت اجارہ میں تھوڑاتھوڑا تحقق ہوتا رہتا ہے، اور چونکہ عقدِ اجارہ اسمًا اور معنًی علت ہے، اس لئے منافع حاصل کرنے سے پہلے اجرت ادا کرنا درست ہے، کیونکہ علت یعنی عقد ِاجارہ موجود ہے ،لیکن چونکہ عقد ِاجارہ حکمًا علت نہیں ہے ،اس لئے اجرت میں آجر کی ملک ثابت نہ ہوگی، الغرض عقد ِاجارہ قسم خامس کی دوسری مثال ہے ،لیکن پہلی مثال یعنی بیعِ موقوف اور بیع بشرط الخیار اور عقدِاجارۃمیں فرق یہ ہے کہ پہلی مثال سبب کے مشابہ نہیں ہے ،جیسا کہ اس کی تقریر گذر چکی ،البتہ عقد ِ اجارہ سبب کے مشابہ ہے ۔
علت مشابہ بالسبب ہے یا نہیں؟ اس کو سمجھنے کے لئے آپ یہ بات ذہن میں رکھیںکہ اگر علت اور حکم کے درمیان کوئی زمانہ کا واسطہ نہ ہو اور حکم علت کی طرف منسوب ہوتو یہ علت مشابہ بالسبب نہیں ہے ،جیسے بیع ِموقوف اور بیع بشرط الخیار اور اگر علت اور حکم کے درمیان زمانہ موجود ہے اور حکم علت کی طرف منسوب نہیں ہے تو یہ علت مشابہ بالسبب ہے ، کیونکہ اس میں حکم علت کی طرف نہیں بلکہ مستقبل کے وقت کی طرف منسوب ہے ، جیسے کسی نے رجب میں کہا کہ میں رمضان میں تمہارا مکان اجرت پر لوں گا ،تو یہاں علت یعنی عقد ِاجارہ اور حکم یعنی ملک ِ منفعت کے درمیان زمانہ کا واسطہ ہے یعنی رمضان سے لینے کو کہہ رہا ہے، تو حکم رمضان کی طرف منسوب ہے، علت یعنی عقد ِاجارہ کی طرف منسوب نہیںہے ، لہٰذا عقد ِ اجارہ وقت ِ عقد سے نہیں بلکہ رمضان سے شروع ہوگا، کرایہ رمضان ہی سے واجب ہوگا ، تو علت اورحکم کا زمانہ الگ الگ ہو ا اور سبب مسبب میں بھی دونوں کا زمانہ الگ الگ ہوتا ہے، لہٰذا یہ عقد اجارہ مشابہ بالسبب ہوا۔
مصنفؒ کہتے ہیں اسی طرح ہر وہ ایجاب جو وقت کی طرف منسوب ہو وہ اسمًا اور معنًی علت ہوگا ،حکمًا علت نہ ہوگا ،اور یہ مشابہ بالسبب ہوگا جیسے کسی نے کہا ’’للہ علی ان اصوم یوم الجمعۃ‘‘ اللہ کے لئے مجھ پر جمعہ کا روزہ لازم ہے، تو یہ اسما ًعلت ہے، کیونکہ حکم یعنی وجوب صوم اس کی طرف منسوب ہے ،اور معنیً اس لئے علت ہے کہ یہ نذر حکم میں مؤثر ہے، اور حکمًا علت نہیں کیونکہ اس کا حکم (وجوب صوم) فی الحال متحقق نہیں بلکہ جمعہ تک مؤخر ہے، اور علت مشابہ بالسبب اس لئے ہے کہ اس کلام اور حکم کے د رمیان زمانہ ہے جس کی طرف یہ کلام منسوب ہے، یعنی یوم جمعہ ۔
وَکَذٰلِکَ نِصَابُ الزَّکٰوۃِ فِیْ اَوَّلِ الْحَوْلِ عِلَّۃٌ اِسْمًا لِاَنَّہٗ وُضِعَ لَہٗ وَمَعْنًی لِکَوْنِہٖ مُؤَثِّرًافِیْ حُکْمِہٖ لِاَنَّ الْغِنَاءَ یُوْجِبُ الْمَوَاسَاۃَلٰکِنَّہٗ جُعِلَ عِلَّۃً بِصِفَۃِ النُّمَاءِ فَلَمَّا تَرَاخٰی حُکْمُہٗ اَشْبَہَ الْاَسْبَابَ اَلاَ تَرٰی اَنَّہٗ اِنَّمَا تَرَاخٰی اِلٰی مَالَیْسَ بِحَادِثٍ بِہٖ