------------------------------
تشریح :-اسی طرح نصاب ِزکوۃ حولانِ حول سے پہلے اسماًاور معنیً علت ہے حکماً علت نہیں ہے ،اور یہ علت سبب کے مشابہ ہے،اسماًتو اس لئے علت ہے کہ نصاب وجوبِ زکوۃ کے لئے شرعاًوضع کیا گیا ہے،اور وجوبِ زکوۃ نصاب کی طرف منسوب ہے، اور معنیً اس لئے علت ہے کہ نصاب حکم میں یعنی وجوب زکوۃ میں مؤثر ہے ،کیونکہ مالداری (جو نصاب سے حاصل ہوتی ہے)فقراء پر احسان کو واجب کرتی ہے ،اور ادائے زکوۃ کی صورت میں اس کا تحقق ہوتا ہے ،اور حکماًاس لئے علت نہیں ہے کہ نصاب کو مطلق علت نہیں قرار دیا گیا بلکہ صفتِ نماء کے ساتھ علت ہے ،خواہ نماء حقیقی ہویانماء حکمی ،جس کے قائم مقام حولانِ حول کو کیا گیا ہے، لہٰذا نصاب حولانِ حول کے ساتھ علت ِکاملہ بنے گا،لہٰذا زکوۃ کا وجوب حولانِ حول کے بعد ہوگا ،تو وجوبِ زکوۃ کا حکم نما تک یعنی حولانِ حول تک مؤخر ہوا،اس لئے یہ سبب کے مشابہ ہوگیا ،کیونکہ سبب اور مسبب ہی میں زمانہ کا فصل ہوتا ہے ،اور یہاں بھی نصاب اور اس کے حکم یعنی وجوب ِزکوۃ میں زمانہ کا فصل ہے۔
مصنف ؒنے نصاب کا علت مشابہ بالسبب ہونا سمجھانے کے لئے دواصول بیان کئے ہیں(ا)جب علت کا حکم ایسی چیز کے پائے جانے تک مؤخر ہوکہ اس چیز کا پایا جاناعلت کی وجہ سے نہ ہو،اور اگر وہ درمیانی واسطہ علت سے پیدا ہورہا ہوتو اس کو علت مشابہ بالسبب نہیں قرار دیا جائے گا،(۲)جب علت کا حکم ایسی چیز کے پائے جانے تک مؤخر ہوکہ وہ چیز خود علتِ مستقلہ نہ ہو بلکہ مشابہ بالعلل ہو،تو اول شی کو علت مشابہ بالسبب قرار دیا جائے گا اور اگر درمیانی چیزعلت ِمستقلہ ہو تو اول کو سبب محض قرار دیا جائے گا جیسے وجوب زکوۃ ، حکم ہے نصاب سبب یا علت ہے اور نما بیچ میں واسطہ ہے تو وجوبِ زکوۃ کا حکم نصاب کی طرف منسوب نہیں ہے کہ نصاب موجود ہوتے ہی زکوۃ واجب ہوجاتی ہو،بلکہ د رمیان میںایک واسطہ ہے، نماء اور یہ نماء علت سے یعنی نصاب سے پیدا نہیں ہوتا ہے کیونکہ نمائِ حقیقی تجارت کی وجہ سے مال بڑھنے اور جانور کو کھلانے پلانے اور چرانے سے حاصل ہوتا ہے ،اور نماء ِحکمی لوگوں کی رغبتوں کی کثرت اور بھاؤونرخ کے گھنٹے بڑھنے اور حولانِ حول سے حاصل ہوتا ہے ،نیز درمیانی واسطہ یعنی نماء علت مستقلہ بھی نہیں ہے، کیونکہ نماء اگر مستقل بنفسہ ہوتا تو نصاب سبب محض بنتا ،لیکن نماء مستقل بنفسہ نہیں ہے، لہٰذا نصاب سبب حقیقی نہیںبن سکتا بلکہ یہ علت مشابہ بالسبب ہوگا ۔خلاصہ یہ کہ نصاب اور وجوبِ زکوۃ کے بیچ میں جو واسطہ ہے نماء کا وہ علت یعنی نصاب سے پیدا نہیں ہوا ہے ، اور نہ وہ واسطہ مستقل علت ہے ، لہٰذا نصاب کو علت مشابہ بالسبب کہا جائے گا، کیونکہ وہ بیچ کا واسطہ اگر علت یعنی نصاب سے پیدا ہوتا تو نصاب علتِ حقیقیہ ہوتا ، جیسے تیر پھینکنا یہ علت ہے ، ہلاک ہونا حکم ہے مگر بیچ میں واسطہ ہے ، مرمی الیہ کو لگنا ، کیونکہ جب لگے گا تب ہی ہلاک کرے گا، تو بیچ میں واسطہ ہے مگر یہ واسطہ علت یعنی رمی سے ہی پیدا ہوا ہے ، لہٰذا رمی یعنی تیر پھینکنا علتِ حقیقیہ ہوگا__ اسی طرح وہ بیچ کا واسطہ یعنی نما