یہ جیسے ملک کے لئے بیع ہے، اور حلت کے لئے نکاح ہے ،اور قصاص کے لئے قتل ہے ،اور علت حقیقیہ کی صفت اس کا حکم پر مقدم ہونا نہیں ہے ،بلکہ واجب ہے ان دونوں کا ایک ساتھ ہونا ،اور یہ جیسے استطاعت فعل کے ساتھ ہوتی ہے ہمارے نزدیک ،پس جب حکم مؤخر ہوگیا کسی مانع کی وجہ سے ،جیسا کہ بیع موقوف میں اور بیع بشرط الخیار میں، تو بیع علت ہوگی اسم اور معنی کے اعتبار سے ،نہ کہ حکم کے اعتبار سے،اور اس کے علت ہونے کی دلیل نہ کہ سبب ،یہ ہے کہ مانع جب زائل ہوگیا تو اس کا حکم واجب ہوگا اولِ امر ہی سے ، یہاں تک کہ مشتری مبیع کا مستحق ہوگا اس کے زوائدکے ساتھ ،اور اسی طرح عقد ِاجارہ علت ہے اسم اور معنی کے اعتبار سے ،نہ کہ حکم کے اعتبار سے ،اور اسی وجہ سے اجرت کی تعجیل صحیح ہے،لیکن عقدِاجارہ اسباب کے مشابہ ہے اس اضافت کے معنی کی وجہ سے جو عقدِاجارہ میں ہے ،یہانتک کہ عقدِاجارہ کا حکم (علت کی طرف)منسوب نہیں ہوتا ہے ،ایسے ہی ہر وہ ایجاب جو وقت کی طرف مضاف ہو علت ہے اسما ًاور معنیً نہ کہ حکماً ،لیکن وہ اسباب کے مشابہ ہے۔
------------------------------
تشریح :-متعلقاتِ احکام مشروعہ کی دوسری قسم علت ہے ،اصطلاح ِشریعت میںعلت اس کو کہتے ہیں جس کی طرف ابتداء ً وجوبِ حکم منسوب ہو،بخلاف سبب،علامت اور شرط کے،پھر علت میں کمال تین چیزوں سے پیدا ہوتا ہے (۱)اسماًبھی علت ہو یعنی یہ علت حکم کے لئے وضع کی گئی ہو اور ثبوتِ حکم کی نسبت بلا واسطہ اسی علت کی طرف ہو (۲)معنی ًبھی علت ہویعنی علت حکم میں مؤثر ہو(۳) حکماًبھی علت ہو یعنی علت کے پائے جانے کے ساتھ ہی بلا تا خیر حکم ثابت ہوجائے یعنی علت اور حکم دونوں کا زمانہ ایک ہی ہو ،جس علت میں یہ تینوں باتیں ہوں وہ علتِ کاملہ کہلائے گی، اور ان میں سے کوئی ایک بات نہ پائی جائے تو وہ علتِ ناقصہ کہلائے گی، اگر تینوں میں سے کوئی بات نہ پائی جائے تو وہ علت نہ ہوگی۔
اس لحاظ سے علت کی کل سات قسمیں بنتی ہیں (۱) اسمًا، معنًی اور حکمًا علت ہویعنی تینوں باتیں پائی جائیں (۲)اسمًا علت ہو معنًی اور حکمًا علت نہ ہو (۳)معنیً علت ہواسماًاورحکماًعلت نہ ہو (۴)حکماًعلت ہو معنیً اور اسماًعلت نہ ہو (۵)اسماًاور معنیً علت ہو حکماًعلت نہ ہو (۶)اسماًاور حکماًعلت ہو معنیً علت نہ ہو (۷)معنیً اور حکماً علت ہواسماًعلت نہ ہو ۔
علتِ کاملہ جس میں تینوں او صاف جمع ہوں ،اس کی مثال جیسے بیع ملکیت کی علت ہے ،اسماًاس لئے علت ہے کہ بیع کو ملک کے لئے وضع کیا گیا ہے اور ثبوت ِ ملک بیع کی طرف منسوب ہے ،اور معنیً اس لئے علت ہے کہ بیع ثبوتِ ملک میں مؤثر ہے ،اور حکماًاس لئے علت ہے کہ بیع کے پائے جاتے ہی بغیر تاخیر کے حکم (ملک)پایا جاتا ہے، ایسے ہی نکاح حلت کے لئے علتِ کاملہ ہے ، اور قتل قصاص کے لئے علت ِکاملہ ہے ۔