طہارت میں تجزی لازم نہ آئے ،اور نہ بہنے کی صورت میں نجاست کی جگہ کو دھونا واجب نہیں ہے، تو پورے بدن یعنی اعضائِ وضو کا دھونا بھی واجب نہیں ہوگا، کیونکہ وصفِ خروج جس معنی کی وجہ سے علت بناتھا وہ معنی نہیںپایا گیا تو وصفِ خروج علت نہیں بنا لہٰذا حکم (نقضِ وضو)بھی نہیں پایا گیا، تو علت کے معدوم ہونے کی وجہ سے حکم معدوم ہوگیا ،یہ جو ہم نے شوافع کے نقض کو دفع کیا، اس کا نام ہے دفع بالمعنی الثابت بالوصف ۔
اس پر امام شافعیؒ کی طرف سے دوسرا نقض واعتراض وارد ہوتا ہے ،وہ یہ ہے کہ جس شخص کا زخم برابر بہتا رہتا ہوتو اس کا وضو ٹوٹ جاناچاہیے کیونکہ وصف ِخروجِ نجاست بھی پایا گیا ،اور وہ معنی جووصف سے دلالۃًثابت ہے یعنی موضع ِنجاست کا دھونا یہ بھی پایاگیا ،کیونکہ اس پر نجاست کی جگہ کا دھونا واجب ہے،لہٰذا وضو ٹوٹ جانا چاہیے حالانکہ آپ کہتے ہیںکہ بقائِ وقت تک اس کا وضو باقی رہتا ہے،تو یہ علت کا حکم سے تخلف ہے۔
مصنفؒ کہتے ہیں کہ اس نقض کو بھی ہم دوطرح سے دفع کریںگے ،(۱)ایک تو دفع بالحکم یعنی ہم حکم کو ثابت مانتے ہیں یعنی ہم یہ کہتے ہیں کہ علت (خروج )کی وجہ سے حکم (حدث ) ثابت ہے،ہم نہیں کہتے ہیں کہ اس کا وضو نہیں ٹوٹا، لہٰذا علت کی وجہ سے حکم ثابت ہوگیا ،علت کا حکم سے تخلف نہیں ہوا ،__لیکن جو حکم ہے یعنی وضو ٹوٹنا یہ اس کے عذر کی وجہ سے مؤخر ہوگیا ،وقت کے بقاء تک اس کو لمبا کردیا ،اسی لئے وقت کے ختم سے اس پر وضو لازم ہوگا، چاہے دوسرا کوئی حدث پیش نہ آیا ہو،__یہ جو ہم نے نقض کو دفع کیا اس کا نام ہے دفع بالحکم ۔
اس نقض کو دفع کرنے کا (۲)دوسراطریقہ دفع بالغرض ہے،وہ یہ ہے کہ ہم نے مسلسل خون آنے کو مسلسل پیشاب پر قیاس کیا ہے ،اب اگر کسی کو پیشاب کے قطرات مسلسل آرہے ہوں ،سلسِ بول کا مریض ہوتو آپ کے نزدیک بھی اس کا وضو وقت کے ختم ہونے تک باقی رہتا ہے ،تو ہم نے زخم پر مسلسل خون آنے کو پیشاب پر قیاس کیا ،اور اصل(پیشاب)اور فرع(زخم)میں برابری ثابت کردی، تو علت کی غرض پائی گئی،اور وہ غرض اصل اور فرع میںبرابری ثابت کرنا ہے ، لہٰذا اگر خون بھی برابر جاری رہا تووہ بھی وقت کے ختم ہونے تک معاف ہوگا،اصل (بول)اور فرع (خون )دونوںبرابر ہو جائیںگے ،یہ جونقض کو ہم نے دفع کیا اس کا نام ہے دفع بالغرض۔
اَمَّاالْمُعَارَ ضَۃُ فَھِیَ نَوْعَانِ مُعَارَضَۃٌفِیْھَا مُنَا قَضَۃٌوَمُعَارَضَۃٌ خَالِصَۃٌ اَمَّا الْمُعَارَضَۃُالَّتِیْ فِیْھَا مُنَاقَضَۃٌ فَا لْقَلْبُ وَھُوَ نَوْعَانِ اَحَدُھُمَا قَلْبُ الْعِلَّۃِ حُکْمًا وَالْحُکْمِ عِلَّۃً وَھُوَ مَا خُوْذٌ مِنْ قَلْبِ الْاِنَاءِ وَاِنَّمَا یَصِحُّ ھٰذَا فِیْمَا یَکُوْنُ التَّعْلِیْلُ فِیْہ بِالْحُکْمِ مِثْلُ قَوْلِھِمْ الْکُفَّارُ جِنْسٌ یُجَلَّدُ بِکْرُھُمْ مِائَۃً فَیُرْجَمُ ثَیِّبُھُمْ کَا