لْمُسْلِمِیْنَ قُلْنَا اَلْمُسْلِمُوْنَ اِنَّمَا یُجَلَّدُ بِکْرُھُمْ مِائَۃًلِاَنَّہٗ یُرْجَمُ ثَیِّبُھُمْ فَلَمَّا اِحْتَمَلَ الْاِنْقِلَابَ فَسَدَ الْاَصْلُ وَبَطَلَ الْقِیَاسُ
ترجمہ:- بہرحال معارضہ پس وہ دو قسم پر ہے ،ایسا معارضہ جس میں مناقضہ ہو،اور خالص معارضہ،بہرحال وہ معارضہ جس میں مناقضہ ہو پس ،وہ قلب ہے ،اور قلب کی دوقسیمیںہیں ،ان میں سے ایک علت کو حکم سے اور حکم کو علت سے بدل دینا ہے ،اور یہ قلب الاناء سے ماخوذہے ،اور قلب کی یہ قسم صحیح ہوتی ہے اس صورت میں کہ تعلیل اس میں حکم کے ذریعہ ہو ،جیسے شوافع کا قول کہ کفار ایسی جنس ہے کہ ان کے بِکْر کو سوکو ڑ ے مارے جاتے ہیں تو ان کے ثَیِّبْ کو رجم کیا جائے گا مسلمانوں کی طرح،ہم کہیں گے کہ مسلمان ،ان کے بِکْر کو سوکو ڑے مارے جائیںگے ،اس لئے کہ ان ثیّبْ کو رجم کیا جاتا ہے ،پس جب تعلیل انقلاب کا احتمال رکھتی ہے تو اصل فاسد ہوگی اور قیاس باطل ہوگیا ۔
------------------------------
تشریح :-مصنفؒ مناقضہ کے بیان سے فارغ ہوکر معارضہ کا بیان شروع کررہے ہیں،معارضہ کہتے ہیں مُعلِّل نے اپنے دعوی پر جو دلیل قا ئم کی ہے معترض اس کے خلاف پر دلیل قائم کردے اور معلِّل کی دلیل سے تعرض نہ کرے،اور مناقضہ یہ ہے کہ معترض مُعَلِّل کی دلیل کو باطل کردے ، اور اسی کو اپنی دلیل بنا دے دونوں میں فرق یہ ہے کہ معارضہ میں مُعَلِّل کی دلیل سے کوئی تعرض نہیں ہوتا بلکہ اپنی دلیل سے اس کے مدعی کی ضد کو ثابت کیا جاتا ہے ، اور مناقضہ میں مُعَلِّل کی دلیل سے تعرض کرکے باطل کیا جاتا ہے اور وہ معترض کی دلیل بن جاتی ہے ،پھر معارضہ کی دوقسمیں ہیں،مُعلِّل کی دلیل بعینہٖ معترض کی دلیل بن جائے تو یہ پہلی قسم ہے، اور اگر ایسا نہ ہو تو دوسری قسم ہے،(۱)پہلی قسم کا نام معارضہ فیھا منا قضہ ہے یعنی ایسا معارضہ جس میں مناقضہ ہو،اور (۲)دوسری قسم کا نام ہے معارضہ خا لصہ ،پہلی قسم کا دوسرا نام قلب بھی ہے، اس قسم اول کا نام معارضہ فیھا معارضہ اس لئے ہے کہ اس میں من وجہٍ معارضہ ہے من وجہٍ مناقضہ ہے،اس لحاظ سے کہ یہ معلل کے دعوی کے خلاف پر دلالت کرتا ہے معارضہ ہے،اور اس لحاظ سے کہ دلیل میں خلل ہونے کی وجہ سے یہ دلیل مُعَلِّل کے حق میں دلیل بننے کے قابل نہ رہی ،بلکہ معارض کی دلیل بن گئی ،مناقضہ ہے ،لیکن اس میں معارضہ ہی اصل ہے، مناقضہ تو ضمناً اور صورۃً ہے،اس لئے کہ پہلے بتا یا کہ علتِ مؤثرہ میں نقض وارد نہیںہو سکتاہے ،اسی لئے مصنف نے نام بھی معارضہ فیھا مناقضہ رکھا ،مناقضہ فیھا معارضہ نہیں رکھا ۔
سوال: معارضہ فیھا مناقضہ میں تو اجتماع ضدین لازم آتا ہے ، کیوںکہ معارضہ میں مُعَلِّل کی دلیل سے تعرض کئے بغیر اس کے مدعی کی ضد کو ثابت کیا جاتا ہے ، اس کا مطلب ہے کہ اس کی دلیل مسلم ہے ، اور مناقضہ میں اس کی دلیل سے تعرض کرکے دلیل ہی کو باطل کردیا جاتا ہے ، تو معارضہ اور مناقضہ تو اجتماع ضدین ہوا۔