(۱)دفع بالوصف (۲)دفع بالمعنی الثابت بالوصف (۳)دفع بالحکم (۴) دفع بالغرض ۔
جیسے احناف کے نزدیک غیر سبیلین سے ناپاکی نکلے تو نا قضِ وضو ہے،اور شوافع کے نزدیک ناقضِ وضو نہیں ہے،__ ہم نے علت بیان کی کہ سبیلین سے نکلنے والی نجاست (پیشاب پاخانہ ) سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو سبیلین کے علاوہ بدن کے کسی حصہ سے بھی نجاست جیسے خون نکلے گا ،تو وضو ٹوٹ جائے گا ،دونوں میں علت خروجِ نجاست ہے۔
اس پر امام شافعیؒ نقض وارکرتے ہیں کہ جب ناپاکی نکلے اور بہے نہیں تو اس سے کیوں وضو نہیں ٹوٹتا، جب کہ خروجِ نجاست کی علت یہاں بھی ہے ۔
مصنفؒ کہتے ہیں کہ ہم اس نقض کو دوطرح سے دفع کریںگے ،(۱)ایک تو اس طرح کہ ہم وصف کا انکار کرینگے یعنی ہم کہیںگے کہ وصف (علت )یعنی خروج نجاست ہے ہی نہیں ،کیونکہ ہر کھال کے نیچے خون ہوتا ہے اور ہررگ میں خون ہے، جب کھال ہٹی تو خون کا ظہور ہوا ،خروج نہیں ہوا __اس پر معترض اگر کہے کہ ُدبر پر پائخانہ ظاہر ہو تو اس سے کیوں وضو ٹوٹ جاتا ہے ،جب کہ ظہورِ نجاست ہے خروج یہاں بھی نہیں ہے، __ہم جوا ب دیںگے کہ دبر پر ظہور نہیں بلکہ خروج ہے کیوںکہ پائخانہ کا اسٹاک اندر ہوتا ہے وہاںسے منتقل ہوکر ظہور ہوا جس کو خروج کہیں گے،لہٰذا اس سے وضو ٹوٹ جائے گا،__بہرحال یہ دفع بالوصف ہوا ۔
(۲)دوسرا طریقہ اس کو دفع کرنے کا یہ ہے کہ ہم اس معنی کا انکار کرنیگے جو معنی وصف سے دلالۃً ثابت ہے ،یعنی ہم یہ کہیںگے کہ اس وصف کے علت ہونے میں جس معنی کا دخل ہے وہ معنی موجود ہی نہیں ہے،لہٰذا یہ وصف (خروجِ نجاست)علت نہیں بنے گا --پس صورتِ مذکورہ میںہم اگر وصف (خروج نجاست )کو تسلیم بھی کریںتو بھی حکم ثابت نہیں ہوگا،کیونکہ وہ معنی جس کی وجہ سے وصف علت بنتا ہے وہ معنی ہے ہی نہیں ،اور وہ معنی یہاں یہ ہے کہ پہلے نجا ست کی جگہ کو دھونا واجب ہو ، پھر اس کے بعد پورے بدن کا دھونا واجب ہو،اور پہلے بتایا جاچکا کہ اصل تو خروجِ نجاست میں پورے بدن کا دھونا واجب ہو لیکن دفعاً للحرج شریعت نے اعضاء وضوپر اکتفا کرلیا۔
بہرحال اصل وہ معنی یہ ہے کہ پہلے نجاست کی جگہ کو دھونا واجب ہو پھر پورے بدن (اعضاء ِوضو )کا دھونا واجب ہو،تو جب وہ معنی پایاجائے گا ،یعنی موضعِ نجاست کا دھونا تو وصفِ خروج پورے بدن کی طہارت یعنی وضو واجب ہونے کی علت بنے گا،اور اگر یہ معنی نہ ہوگا یعنی موضعِ نجاست کا دھونا واجب نہ ہوگا تو پورے بدن کی طہارت یعنی وضو واجب نہیں ہوگا اوراس صورت میں خروج نقضِ وضو کی علت نہیں بنے گا، کیونکہ طہارت کے وجوب میں تجزی نہیںہوتی یعنی ایسا نہیں ہوتاہے، کہ ایک حصہ کی طہارت واجب ہو اورایک حصہ کی نہ ہو،__لہٰذا خون نکل کر بہنے کی صورت میں بہنے کی جگہ کا دھونا واجب ہے تو پورے بدن کا یعنی اعضائِ وضوکا دھونا بھی واجب ہوگا ،تاکہ وجوبِ