ترجمہ:-اور بہرحال عِلَلِ مؤثرہ پس ان میں سائل کو ممانعت کے بعد صرف معارضہ کا حق ہے،اس لئے کہ عِلَلِ مؤثرہ مناقضہ اور فساد ِوضع کا احتمال نہیں رکھتیں ،بعد اس کے کہ ان کا اثر کتاب یا سنت یا اجماع سے ظاہر ہوچکا ہو،لیکن جب صورۃً مناقضہ وارد ہوتو چار طریقوں سے اس کا دفع کرنا واجب ہے، جیسا کہ ہم کہتے ہیںغیر سبیلین سے نکلنے والی چیز میں کہ وہ ناپاک ہے جو انسان کے بدن سے خارج ہے ،تو وہ پیشاب کی طرح حدث ہوگا پس اس پر نقض وارد کیا جائے گا اس خارج سے جو نہ بہے ،پس ہم اس نقض کو اولا ً وصف سے دفع کریںگے ،اور وصف سے دفع کرنا یہ ہے کہ نہ بہنے والی چیز خارج نہیں ہے ،اس لئے کہ ہر کھال کے نیچے رطوبت ہے،اور ہررگ میں خون ہے،پس جب کھال ہٹ گئی تو خون ظاہر ہوگا نہ کہ خارج،پھر ثانیاً اس نقض کو دفع کریں گے اس معنی کے ذریعہ جو وصف سے دلالۃً ثابت ہواہے ،اور وہ معنی اس جگہ کے غسل کا واجب ہونا ہے تطہیر کے لئے ،اس لئے کہ اس جگہ کے غسل کے واجب ہونے کی وجہ سے وصف علت بن گیا ،اس حیثیت سے کہ تطہیرکا وجوب بدن میں اس اعتبار سے ہے جو بدن سے حاصل ہوگا،تطہیرکا حاصل ہونا وصف ِ تجزی کا احتمال نہیں رکھتا ہے،اور یہا ں اس جگہ کا دھونا واجب نہیں ہے ،پس حکم معدوم ہوگیا علت کے معدوم ہونے کی وجہ سے،اور اس پر نقض وارد کیا جائے گا رِستے ہوئے زخم والے سے ،تو ہم اس کو حکم کے ذریعہ دفع کرنیگے اس بات کو بیان کرکے کہ بہنے والی چیز ایسا حدث ہے جو طہارت کو واجب کرتا ہے خروجِ وقت کے بعد ،اور غرض کے ذریعہ (دفع کریں گے ) اس لئے کہ ہماری غرض خون اور پیشاب کے درمیان برابری ،ثابت کرنا ہے،اور پیشاب حدث ہے پس جب پیشاب لازم دائم ہوگیا تو معاف ہوگا بقائِ وقت کی وجہ سے پس ایسا ہی یہاں ہے۔
------------------------------
تشریح :-مصنفؒ نے شروع میں کہا تھاکہ علت ِطردیہ اور علت ِمؤثرہ میں سے ہرایک پر چند اعتراض ونقض وارد ہوتے ہیں ،علت ِطردیہ پر چار طرح سے نقض کو تفصیل سے بیان کرچکے ،اب علت ِمؤثرہ پر نقض کا ذکرکررہے ہیں،فرماتے ہیں کہ علت ِمؤثرہ پر مذکورہ چار طریقوں میں سے فسادِ وضع اور مناقضہ سے اعتراض واقع کرنے کاکوئی امکان ہی نہیں ہے ،البتہ پہلے دوطریقے یعنی قول بموجب العلۃ اورممانعت سے نقض وارد کیا جاسکتا ہے ،__اور ان کے علاوہ علتِ مؤثرہ میں معارضہ سے بھی اعتراض ونقض واقع کیا جاسکتا ہے ،معارضہ کا ذکر آگے کررہے ہیں۔
فسادِ وضع اور مناقضہ سے اعتراض اس لئے واقع نہیں ہوسکتا کہ علت ِمؤثرہ کی تاثیر کتاب اللہ ،سنت اور اجماع سے ظاہر ہوچکی ہوتی ہے ،تو جس طرح کتاب وسنت اور اجماع سے ثابت شدہ حکم میں فسادِ وضع اور مناقضہ نہیں ہوسکتا اسی طرح جس علت کی تاثیر کتاب وسنت اور اجماع سے ثابت ،ہواس پر بھی فساد ِوضع اور مناقضہ وارد نہیں ہوسکتا ۔
بہرحال علت ِمؤثرہ پر حقیقی ومعنوی مناقضہ نہیں ہوسکتا ،لیکن صورۃً مناقضہ ہوسکتا ہے،اگر معترض علت ِمؤثرہ پر صورۃً مناقضہ کرے تو اس کو دفع کرنے کے چار طریقے ہیں۔