نہ ہوگی، اور پیشاب وغیرہ کا خروج کثرت سے ہوتا ہے تو ہر دفعہ پورے بدن کا غسل واجب ہوتا تو حرج وتنگی پیدا ہوجاتی ، پس پیشاب وغیرہ نکلنے کی صورت میں شریعت نے پورے بدن کا غسل واجب نہیں کیا، بلکہ خلاف ِقیاس اعضائِ اربعہ کے دھونے پر اکتفار کرنے کا حکم دیا __تو اگر چہ پورے بدن کو پاک کرنے کے لئے اعضائِ اربعہ پر اکتفار کرنا خلافِ عقل و قیاس ہے، لیکن خروجِ نجاست سے پورے بدن کا ناپاک ہونا اور پانی کے ذریعہ بصورت وضو نجاست کا زائل ہونا عقل کے عین مطابق ہے،اورامر معقول ہے،اور امر معقول میں نیت کی ضرورت نہیں ہے، لہٰذاوضو میں نیت کی ضرورت نہیں برخلاف مٹی سے تیمم کرنا کیونکہ مٹی سے طہارت حاصل ہونا یہ امرِ غیر معقول ہے ،لہٰذا اس میں نیت کی ضرورت ہے ،غرض انہوں نے تو جیہ کرکے وضو اور تیمم کو ایک کردیا تھا اور ہم نے دونوں میں فرق ظاہر کردیا ۔
مصنفؒ کہتے ہیںکہ عِلَلِ طردیہ کو دفع کرنے کی یہ چار قسمیں جو ماقبل میں تفصیل سے بیان ہوئیں وہ اصحابِ طرد (شوافع )کوتاثیر کے قائل ہونے پر مجبور کرتی ہیں، لامحالہ ان کو علت ِموثرہ کو ماننا پڑے گا بغیر اس کے چھٹکارہ نہیں ہے۔
وَاَمَّا الْعِلَلُ الْمُؤَثِّرَۃُ فَلَیْسَ لِلسَّائِلِ فِیْھَا بَعْدَ الْمُمَانَعَۃِ اِلاَّ الْمُعَارَضَۃُلِاَنَّھَا لَا تَحْتَمِلُ الْمُنَاقَضَۃَوَفَسَادَ الْوَضْعِ بَعْدَ مَا ظَھَرَ اَثَرُ ھَا بِالْکِتَابِ اَوْ السُّنَّۃِ اَوِ الْاِجْمَاعِ لٰکِنَّہٗ اِذَا تُصُوِّرَ مُنَاقَضَۃٌ یَجِبُ دَفْعُہٗ مِنْ وُجُوْہٍ اَرْبَعَۃٍ کَمَا نَقُوْلُ فِی الْخَارِجِ مِنْ غَیْرِ السَّبِیْلَیْنِ اِنَّہٗ نَجِسٌ خَارِجٌ مِنْ بَدَنِ الْاِنْسَانِ فَکَانَ حَدَثًا کَا لْبَوْلِ فَیُوْرَدُ عَلَیْہِ مَااِذَا لَمْ یَسِلْ فَنَدْ فَعَہٗ اَوَّلًا بِالْوَصْفِ وَھُوَ اَنَّہٗ لَیْسَ بِخَارِجٍ لِاَنَّ تَحْتَ کُلِّ جِلْدَۃٍ رَطُوْبَۃً وَفِیْ کُلِّ عِرْقٍ دَمًا فَاِذا زَالَ الْجِلْدُ کَانَ ظَاھِرًا لَاخَارجًا ثُمَّ بِالْمَعْنِی الثَّابِتِ بِالْوَصْفِ دَلَالَۃً وَھُوَ وُجُوْبُ غَسْلِ ذٰلِکَ الْمَوْضِعِ لِلتَّطْھِیْرِفَبِہٖ صَارَ الْوَصْفُ حُجَّۃً مِنْ حَیْثُ اَنَّ وَجُوْبَ التَّطْھِیْرِ فِی الْبَدَنِ بِاِعْتِبَارِ مَا یَکُوْ نُ مِنْہُ لَا یَحْتَمِلُ الْوَصْفَ بِالتَّجَزِّیْ وَھُنَاکَ لَمْ یَجِبْ غَسْلُ ذٰلِکَ الْمُوْضِعِ فَا نْعَدَمَ الْحُکْمُ لِاِنْعِدَامِ الْعِلَّۃِوَیُوْرَدُ عَلَیْہِ صَاحِبُ الْجَرْحِ السَّائِلِ فَنَدْفَعُہٗ بِالْحُکْمِ بِبَیَانِ اَنَّہٗ حَدَثٌ مُوْجِبٌ لِلطَّھَارَۃِ بَعْدَ خُرُوْجِ الْوَقْتِ وَبِالْغَرْضِ فَاِنَّ غَرْ ضَنَا التَّسْوِیَۃُ بَیْنَ الدَّمِ وَالْبَوْلِ وَذٰلِکَ حَدَثٌ فَاِذ الَزِمَ صَارَ عَفْوًالِقِیَامِ الْوَقْتِ فَکَذٰلِکَ ھٰھُنَا