اَقَادِیْلَھُمْ وَلَایَسْقُطُ الْبَعْضُ بِالْبَعْضِ بِالتَّعَارُضِ لِاَنَّہٗ تَعَیَّنَ وَجْہُ الرَّأیِ لَمَّالَمْ یَجْرِالْمُحَاجَّۃُ بَیْنَھُمْ بِالْحَدِیْثِ فَحَلَّ مَحَلَّ الْقِیَاسِ وَاَمَّا التَّابِعِیُّ فَاِنْ زَاحَمَھُمْ فِی الْفَتْوٰی یَجُوْزُتَقْلِیْدُہٗ عِنْدَ بَعْضِ مَشَائِخِنَا رَحِمَھُمُ اللّٰہُ خِلَافًالِلْبَعْضِ۔
ترجمہ:-اور وہ بحث جس پر سنت کے باب کا ختم واقع ہورہا ہے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی متابعت کا باب ہے، ابو سعید بردعی نے فرمایاکہ صحابی کی تقلید واجب ہے ،قولِ صحابی کی وجہ سے قیاس کو ترک کیا جائے گا حضورﷺ سے سماع اور واقفیت حاصل کرنے کے احتمال کی وجہ سے ، اور نفسِ رائے میں صحابہ کی درستگی کی زیادتی کی وجہ سے احوال قران کے مشاہدہ اور اسبابِ قران کی معرفت کے ذریعہ، اور ابوالحسن کرخی نے فرمایا کہ صحابی کی تقلید جائز نہیں ہے مگر ان مسائل میں جن کا قیاس سے ادراک نہیں ہوتا ہے، اور امام شافعی نے فرمایا صحابہ میں سے کسی کی تقلید نہیں کی جائے گی ، اور یہ اختلاف ہر اس چیز میں ہے جو ان سے ثابت ہو بغیر آپسی اختلاف کے،اور (جوان سے ثابت ہو)بغیر یہ بات ثابت ہوئے کہ وہ حکم غیر قائل صحابی کو پہنچا ،پھر اس نے اس کو تسلیم کرتے ہوئے سکوت کیا ہو ، اور اگر صحابہ نے کسی حکم میں اختلاف کیا توحق ان کے اقوال سے متجاورنہ ہوگا اور بعض اقوال بعض سے تعارض کی وجہ سے ساقط نہ ہوں گے ، اس لئے کہ رائے کی صورت متعین ہوگئی جب کہ ان کے درمیان حدیث سے استدلال جاری نہیں ہوا تو قول صحابی قیاس کی جگہ ہوگیا، اور بہرحال تابعی اگر فتوی میں صحابہ سے مزاحم ہوگیا تو ہمارے بعض مشائخ کے نزدیک اس تابعی کی تقلید جائز ہے بعض کے خلاف۔
------------------------------
تشریح:-مصنفؒ سنت کے بیان سے فارغ ہوکر صحابہ کی تقلید کا بیان شروع کررہے ہیں، تقلید کے لغوی معنی ہے کسی چیز کا اپنی گردن میں قلادہ ڈالنا، اور اصطلاح میں تقلید کہتے ہیں کسی کے قول یا فعل کو حق سمجھ کر بغیر دلیل کے قبول کرلینا، صحابہ کی تقلید کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، (۱)ابوسعید بردعی کہتے ہیں کہ صحابی کی تقلیدتابعی اور بعد کے مجتہدین پر واجب ہے، البتہ صحابی کی تقلید صحابی پر واجب نہیں ہے، ہمارے اصحاب کی ایک جماعت ، امام مالک کی ایک روایت اور امام شافعی کا قولِ قدیم بھی یہی ہے، قولِ صحابی کی وجہ سے قیاس کو ترک کردیا جائے گا۔
دلیل یہ ہے کہ صحابی نے حضورﷺسے سنکر اور آپﷺ سے واقفیت حاصل کرکے بیان کیا ہوگا، اس نے حضورﷺ کا زمانہ پایا ہے، اور اگر یہ بات ثابت بھی ہوجائے کہ صحابی نے حدیث حضورﷺ سے نہیں سنی بلکہ اپنی رائے سے کہا ہے تو بھی صحابی کی اصابت رائے بمقا بل دوسروں کے زیادہ ہے کیونکہ صحابہ نے نزول کا دور دیکھا ہے، اسباب نزول قران کی ان کو معرفت ہے، لہٰذا صحابی کی رائے حجت ہوگی۔