نہیں ہے تودوسرا بھی واجب نہ ہوگا __اور یہاں نماز مجنون پر واجب نہیں ہے تو زکوۃ بھی واجب نہ ہوگی ،کیونکہ دوجملوں کا بذریعہ عطف جمع ہونا حکم میں شرکت کا تقاضا کرتا ہے __ہمارے نزدیک بھی مجنون پر زکوۃ واجب نہیں ہے ،لیکن اس دلیل سے نہیں جو امام مالک بیان کررہے ہیں بلکہ ہمارا مستدل وہ حدیث ہے جس میں فرمایا رفع القلم عن ثلاثۃ تین آدمیوں سے قلم اٹھادیا گیا ہے، نائم، صبی اور مجنون سے ،قلم اٹھادینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ مکلف نہیں ہیں لہٰذا جب مکلف نہیں ہیں تو زکوۃ واجب نہ ہوگی ۔
امام مالک ؒ اس وجہ ِفاسد میں استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر جملہ ٔناقصہ کا عطف جملہ ٔ کاملہ پر کیا جائے تو اس وقت دونوں جملے خبر میں شریک ہوتے ہیں جیسیزینب طالق وھند __ ناقصہ کا عطف کاملہ پر ہے اور دونوں خبر میں شریک ہیں ،یعنی زینب اور ھند دونوں پر طلاق واقع ہوگی __تو ایسے ہی اگر جملہ ٔ کاملہ کا کاملہ پر عطف کیا جائے تودونوں اگرچہ خبر میں شریک نہ ہونگے کیونکہ دونوں کامل جملے ہیں، البتہ حکم میں شریک ہوجائیں گے ،جیسے زینب طالق وھند طالق ۔
بہر حال امام مالک جملہ ٔ کاملہ کے کاملہ پر عطف کو جملہ ٔ ناقصہ کے کاملہ پر عطف کرنے پر قیاس کرتے ہیں --مگر ہم اس کو استدلالِ فاسد کہتے ہیں ،کیونکہ ناقصہ کے کاملہ پر عطف کی صورت میں جو دونوں خبر میں شریک ہیں وہ اس وجہ سے نہیں کہ دونوں حرف عطف سے جمع ہوئے ہیں ،بلکہ اس وجہ سے کہ ناقصہ میں خبر کی ضرورت ہے اس لئے وہ کاملہ کا محتاج ہے ، اس لئے خبر میں ناقصہ کو کاملہ کے ساتھ شریک کردیا__ اور کاملہ دوسرے کاملہ کا محتاج نہیں ہے، لہٰذا شرکت بھی نہ ہو سکے گی__ ہاں اگر کاملہ بھی کبھی کسی چیز میں دوسرے کاملہ کا محتاج ہوجائے تو احتیاج کی حد تک شرکت ثابت ہوجائے گی جیسے کسی نے اپنی بیوی سے کہا ان دخلت الدار فانت طالق وعبدی حر __ یہاں دو جملے اگر چہ کامل ہیں مگر دوسرا جملہ تعلیق میں پہلے کا محتاج ہے تو تعلیق میں دوسرے کو پہلے کے ساتھ شریک کردینگے اور یوں کہیں گے کہ طلاق اور آزادی دونوں شرط پر معلق ہونگے ،کیونکہ دلالت حال کا تقاضا ہے کہ متکلم کا مقصد طلاق اور آزادی دونوں کو شرط پر معلق کرنا ہے __ ہاں اگر شوہر یوں کہے ان دخلت الدار فانت طالق وزینب طالق __ تو یہاں دونوں جملے مستقل ہیں ،دوسرا تعلیق میں بھی پہلے کا محتاج نہیں ہے ،لہٰذا پہلا جملہ تو شرط پر معلق رہے گا مگر دوسرا معلق نہ ہوگا بلکہ مُنَجَّزْ ہوگا یعنی زینب پر فوراً طلاق پڑجائے گی __ کیونکہ اگر وہ دوسرے جملے کو بھی تعلیق میں پہلے کے ساتھ شریک کرنا چاہتا تو زینب کے بعد خبر نہ لاتا صرف یوں کہتا ان دخلت الدار فانت طالق وزینب ، وجوہ ِ فاسدہ کا بیان مکمل ہوگیا ۔