، تو یہاں کل اگر چہ براہِ راست فعل پر داخل نہیں ہے، مگر اسم کے واسطہ سے فعل پر ہی داخل ہے۔
کل جب نکرہ پر داخل ہوتا ہے تو وہ علی سبیل الافراد تمام افرادکا احاطہ کرتا ہے،اور افراد کے معنی یہ ہیں کہ گویا اس کے ساتھ کوئی اور شریک نہیں ہے،جیسے اگر بادشاہ نے کہا’’کل رجل منکم دخل ھذا الحصن اولا فلہ کذا‘‘ پھر بیس فوجی ایک ساتھ قلعہ میں داخل ہوگئے تو ہر ایک کو پورا انعام ملے گا کیونکہ کل علی سبیل الافراد تمام افراد کا احاطہ کرتا ہے ،تو یہ ایسا ہی ہوگیا گویا بادشاہ نے ہر ایک سے الگ الگ پورے انعام کا وعدہ کیا ہو، لہٰذا ہر ایک کو کامل انعام ملے گا۔ واﷲ اعلم بالصواب
تمت بالخیر
اﷲ اکبر کبیر ا والحمدﷲ کثیرا وسبحان اﷲ بکرۃ واصیلا اللھم تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم اللھم الحتنی بالصالحین واجعلنی من الفائرین ،بحرمۃ سید الانبیاء والمرسلین وعلی الہ وصحبہ وذریاتہ اجمعین الی یوم الدین۔
حفظ الرحمن ابن عباس پالنپوری(کاکوسی)
خادم ِتفسیر وحدیث ومکاتب قرآنیہ بمبئی