اجیزہ بمائۃ وخمسین ‘‘تو استدراک اصل نکاح میں نہ ہوگابلکہ مقدارِ مہر میں ہوگایعنی نفی کا تعلق مائۃسے ہوگااور اثبات کا تعلق مائۃ وخمسین سے ہوگاتو اتساق پایا گیا،لہٰذا لکن عطف کے لئے ہوگا۔
وَاَمَّا اَوْ فَتَدْخُلُ بَیْنَ اِسْمَیْنِ اَوْ فِعْلَیْنِ فَیَتَنَاوَلُ اَحَدَ الْمَذْکُوْرَیْنِ فَاِنْ دَخَلَتْ فِی الْخَبَرِ اَفْضَتْ اِلَی الشَّکِّ وَاِنْ دَخَلَتْ فِی الْاِبْتِدَاءِ وَالْاَنْشَاءِ اَوْجَبَتِ التَّخْیِیْرَ وَلِھٰذَا قُلْنَا فِیْمَنْ قَالَ ھٰذَا حُرٌّ اَوْھٰذَا اَنَّہٗ لَمَّا کَانَ اِنْشَاءً یَحْتَمِلُ الْخَبَرَ اَوْجَبَ التَّخْیِیْرَعَلٰی اِحْتِمَالٍ اَنَّہٗ بَیَانٌ حَتّٰی جُعِلَ الْبَیَانُ اِنْشَاءً مِنْ وَجْہٍ اِظْھَارًا مِنْ وَجْہٍ وَقَدْ تُسْتَعَارُ ھٰذِہٖ الْکَلِمَۃُ لِلْعُمُوْمِ فَتُوْجِبُ عُمُوْمَ الْاِفْرَادِ فِیْ مَوْضِعِ النَّفِیْ وَعُمُوْمَ الْاِجْتِمَاعِ فِیْ مَوْضِعِ الْاِبَاحَۃِ وَلِھٰذَا لَوْحَلَفَ لَایُکَلِّمُ فُلَانًا اَوْفُلَانًا یَحْنَثُ اِذَا کَلَّمَ اَحَدَھُمَا وَلَوْقَالَ لَایُکَلِّمُ اَحَدًا اِلَّا فُلَانًا اَوْ فُلَانًا کَانَ لَہٗ اَنْ یُکَلِّمَھُمَا جَمِیْعًا وَقَدْ تُجْعَلُ بِمَعْنٰی حَتّٰی فِیْ نَحْوِقَوْلِہٖ وَاﷲِ لَااَدْخُلُ ھٰذِہٖ الدَّارَ اَوْ اَدْخُلَ ھٰذِہٖ الدَّارَ حَتّٰی لَوْدَخَلَ الْاَخِیْرَۃَ قَبْلَ الْاُوْلٰی اِنْتَھَتِ الْیَمِیْنُ لِاَنَّہٗ تَعَذَّرَ لِاَنَّہٗ الْعَطْفُ لِاِخْتِلَافِ الْکَلَامَیْنِ مِنْ نَفْیٍ وَاِثْبَاتٍ وَالْغَایَۃُ صَالِحَۃٌ لِاَنَّ اَوَّلَ الْکَلَامِ حَظْرٌ وَتَحْرِیْمٌ وَلِذٰلِکَ وَجَبَ الْعَمَلُ بِمَجَازَہٖ۔
ترجمہ:-اور بہرحال او تو وہ دواسموں یا دو فعلوں کے درمیان داخل ہوتا ہے،پس مذکورین میں سے ایک کو شامل ہوگا،پس اگر وہ خبر پر داخل ہوتو مفضی الی الشک ہوگا،اور اگر ابتداء اور انشاء میں داخل ہوتو تخییر کو واجب کرے گا،اسی وجہ سے ہم نے کہا اس شخص کے بارے میں جس نے کہا’’ھذا حر اوھذا‘‘کہ یہ قول انشاء ہے ،جو خبر کااحتمال رکھتا ہے ،تو او تخییر کو واجب کرے گااس احتمال کے ساتھ کہ یہ قول بیان ہے،حتی کہ بیان کو من وجہٍ انشاء اور من وجہ ٍاظہار قرار دیاجائے گا،اور کبھی کلمۂ او عموم کے لئے مستعار لیا جاتا ہے،تو یہ موضعِ نفی میں عمومِ افراد کو اور موضعِ اباحت میں عمومِ احتماع کو واجب کرے گا،اسی وجہ سے اگر کسی نے قسم کھائی کہ ’’وہ فلاں سے بات نہیں کرے گا یا فلاں سے‘‘تو جب ان دونوں میں سے ایک سے کلام کرے گاتو حانث ہوجائے گا،اور اگر کہا کہ ’’وہ کسی سے کلام نہیں کرے گامگر فلاں یا فلاں سے‘‘تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ دونوں سے کلام کرے،اور کبھی کلمۂ اوحتی کے معنی کے لئے قرار دیاجاتا ہے،جیسے قائل کے قول میں’’واﷲ لاادخل ھذہ الدار او ادخل ھذہ الدار‘‘یہاںتک کہ اگر وہ دوسرے گھر میں پہلے گھرسے پہلے داخل ہوگیا،تو یمین پوری ہوجائے گی،اس لئے کہ عطف متعذر ہے،دو کلاموں