عَلٰی عَدَمِ الْمُخْبَرِبِہٖ وَکَذٰلِکَ تَسْلِیْمُ الشُّفَعَۃِ بَعْدَ الطَّلَبِ وَالْاِشْھَادِ یُبْطِلُہٗ الْھَزَلُ لِاَنَّہٗ مِنْ جِنْسِ مَایَبْطُلُ بِخِیَارِ الشَّرْطِ وَکَذٰلِکَ اِبْرَاءُ الْغَرِیْمِ وَاَمَّا الْکَافِرُ اِذَا تَکَلَّمَ بِکَلِمَۃِ الْاِسْلَامِ وَتَبَرَّأَ عَنْ دِیْنِہٖ ھَازِلًا یَجِبُ اَنْ یُحْکَمَ بِاِیْمَانِہٖ کَالْمُکْرَہِ لِاَنَّہٗ بِمَنْزِلَۃِ اِنْشَاءٍ لَایَحْتَمِلُ حُکْمُہٗ الرَّدَّ وَالتَّرَاخِیَ وَاَمَّا السَّفَہٗ فَلَا یُخِلُّ بِالْاَھْلِیَّۃِ وَلَایَمْنَعُ شَیْئًا مِنْ اَحْکَامِ الشَّرْعِ وَلَایُوْجِبُ الْحَجْرَ اَصْلًا عِنْدَ اَبِیْ حَنِیْفَۃؒ وَکَذَا عِنْدَ غَیْرِہٖ فِیْمَا لَایُبْطِلُہُ الْھَزْلُ لِاَنَّہٗ مُکَابَرَۃُ الْعَقْلِ بِغَلْبَۃِ الْھَویٰ فَلَمْ یَکُنْ سَبَبًا لِلنَّظْرِ وَمَنْعُ الْمَالِ عَنِ السَّفِیْہِ الْمُبَذِّرِ فِیْ اَوَّلِ الْبُلُوْغِ ثَبَتَ بِالنَّصِّ اِمَّا عَقُوْبَۃٌ عَلَیْہِ اَوْغَیْرُ مَعْقُوْلِ الْمَعْنٰی فَلَایَحْتَمِلُ الْمُقَایَسَۃَ۔
ترجمہ:-پھر موافقت پر عمل واجب ہے ان معاملات میں جن میں ہزل مؤثر ہے جب کہ عاقدین ہزل پر بنا کرنے پر اتفاق کرلیں،بہرحال جب وہ دونوں اس بات پر اتفاق کریںکہ ان کو کچھ مستحضر نہیں تھایا دونوں اختلاف کریںتو اس کو جد پر محمول کیا جائے گا،اور جدّ کے مدعی کا قول معتبر ہوگا امام ابوحنیفہؒ کے قول کے مطابق ،برخلاف صاحبین کے۔
بہرحال اقرار پس ہزل اس کو باطل کردیتا ہے،چاہے اقرار اس چیز کا ہوجو فسخ کا احتمال رکھتی ہے یا اس چیز کا ہوجو فسخ کا احتمال نہیں رکھتی ہے،اس لئے کہ ہزل دلالت کرتا ہے،مُخْبَربہ کے نہ ہونے پر،اور اسی طرح طلب اور اشہاد کے بعد شفعہ کی تسلیم کہ اس کو ہزل باطل کردیتا ہے،اس لئے کہ تسلیم ِشفعہ اس چیز کی جنس سے ہے جو خیار شرط سے باطل ہوجاتا ہے،اور ایسے ہی قرض خواہ کا قرض سے بری کردینا ہے،اور بہرحال کا فرجب اس نے کلمۂ اسلام کا تکلم کیا،اور اس نے اپنے دین سے ہزل کے طور پر برأت ظاہر کردی، تواس کے ایمان کا حکم لگاناواجب ہے مُکْرَہ کی طرح،اس لئے کہ ایمان ایسی انشاء کے درجہ میں ہے جس کا حکم رد اور تراخی کا احتمال نہیں رکھتا ہے۔
اور بہرحال سَفَاہت تو وہ اہلیت میں مخل نہیں ہے،اور نہ یہ احکامِ شرع میں سے کسی چیز کو روکتی ہے،اور نہ سَفَہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک بالکل حجر کو واجب کرتی ہے،اور ایسے ہی ان کے علاوہ کے نزدیک ان معاملات میں جن کو ہزل باطل نہیں کرتا ہے،اس لئے کہ سفہ عقل کی دشمنی اور مخالفت کرنا ہے غلبۂ ہوی کے سبب سے،تو سفہ شفقت کا سبب نہیں ہے،اور اول بلوغ میں سَفِیہِ،مبذر سے مال کو روکنا نص سے ثابت ہوا ہے یا تو یہ سفیہ پر عقوبت ہے یاغیر معقول المعنی ہے پس قیاس کا احتمال نہیں رکھتا ہے۔