ہوجائے گا۔
ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ خلع تو مال کے ساتھ ہوتا ہے،اور مال میں ہزل مؤثر ہوتا ہے،لہٰذا عقد ِخلع میں بھی ہزل مؤثر ہوناچاہیے ،اس کا جواب دے رہے ہیں کہ یہاں اصل خلع ہے،اور اس کے ضمن میں اس کے تابع ہوکرمال ثابت ہوتا ہے،مال اصل مقصود نہیں ہے،لہٰذا جب خلع میں جو اصل ہے فسخ کا احتمال نہیں ہوتا ہے تو اس میں ہزل بھی مؤثر نہ ہوگا اور جب اصل میں ہزل مؤثر نہیں تو بدلِ خلع جو تابع ہے اس میں بھی ہزل مؤثر نہ ہوگا۔اور اصل یعنی خلع میں ہزل مؤثر اس لئے نہیں ہے کہ آپ پہلے پڑھ چکے کہ جن معاملات میں فسخ کا احتمال نہیں ہوتا ہے ان میں ہزل مؤثرنہیں ہوتا ہے ۔خلاصہ یہ کہ من وجہٍ مال اصل بھی ہے ، اور من وجہ اصل نہیں ہے، خلع کی طرف نظر کرتے ہوئے مال تابع ہے اور خلع اصل ہے اور چونکہ اس میں مال کے ذکر کے بغیر عقد ہوتا ہی نہیں ہے ، اس لحاظ سے مال اصل ہے ۔
اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک خلع میں عورت کی جانب بیع کے درجہ میں ہے،لہٰذا عورت کی جانب میں خیار شرط بھی جائز ہے،لہٰذا خلع میں ہر حال میں چاہے نفس ِخلع میں ہزل ہو،یا بدلِ خلع میں یا جنسِ بدل خلع میں، بہرصورت طلاق عورت کے اختیار کرنے پر موقوف ہوگی،اگر عورت چاہے گی تو طلاق پڑے گی اور مال واجب ہوگا،کیونکہ امام صاحب کے نزدیک ہزل خیارِ شرط کے درجہ میں ہے،اور جامع صغیر میں امام صاحب سے صراحت ہے کہ اگر خلع میں خیار ِشرط ہومثلاً شوہر کہے’’تجھے تین طلاق ہے ایک ہزار درہم پر اس شرط کے ساتھ کہ تجھے تین دن کا اختیار ہے‘‘تو یہاںاگر عورت نے طلاق اختیارکرلی تو طلاق واقع ہوگی اور اگر رد کردیا تو طلاق واقع نہ ہوگی،بس یہی صورت ہزل میں بھی ہے کہ طلاق اور وجوب ِمال عورت کے اختیار کرنے پر موقوف رہے گا بس اتنا فرق ہے کہ خیار ِشرط میں جب وہ بیع میں ہوتو تین دن متعین ہیں، اورخلع میں تین دن متعین نہیں ہیں،بلکہ تین دن کے بعد بھی اگر عورت نے اختیار کیا تو طلاق واقع ہوگی اور مال واجب ہوگا۔
مصنفؒؒ فرماتے ہیں کہ خلع میں ہزل کا جو حکم بیان ہوااور اس میں امام صاحب اور صاحبین کا جو اختلاف ہے ،وہی حکم اور اختلاف اس کے نظائر میںہے یعنی طلاق علی مال،دم ِعمد میں مصالحت بالمال وغیرہ کے ہزل میں۔
ثُمَّ اِنَّہٗ اِنَّمَا یَجِبُ الْعَمَلُ بِالْمُوَاضَعَۃِ فِیْمَا یُؤَثِّرُ فِیْہِ الْھَزْلُ اِذَا اتَّفَقَا عَلَی الْبِنَاءِ اَمَّا اِذَا اتَّفَقَا عَلٰی اَنَّہٗ لَمْ یَحْضُرْھُمَا شَیْءٌ اَوِ اخْتَلَفَا حُمِلَ عَلَی الْجِدِّ وَجُعِلَ الْقَوْلُ قَوْلَ مَنْ یَدَّعِیْہِ فِیْ قَوْلِ اَبِیْ حَنِیْفَۃَؒ خِلَافًا لَھُمَا وَاَمَّا الْاِقْرَارُ فَالْھَزْلُ یُبْطِلُہٗ سَوَاءٌ کَانَ الْاِقْرَارُ بَمَا یَحْتَمِلُ الْفَسْخَ اَوْبِمَا لَایَحْتَمِلُہٗ لِاَنَّ الْھَزْلَ یَدُلُّ