اَبِیْ حَنِیْفَۃَؒ فَاِنَّ الطَّلَاقَ یَتَوَقَّفُ عَلٰی اِخْتِیَارِھَا بِکُلِّ حَالٍ لِاَنَّہٗ بِمَنْزِلَۃِ خِیَارِ الشَّرْطِ وَقَدْ نُصَّ عَنْ اَبِیْ حَنِیْفَۃَؒ فِیْ خِیَارِ الشَّرْطِ مِنْ جَانِبِھَا اَنَّ الطَّلَاقَ لاَ یَقَعُ وَلَایَجِبُ الْمَالُ اِلَّا اَنْ تَشَاءَ الْمَرْأَۃُ فَیَقَعُ الطَّلَاقُ وَیَجِبُ الْمَالُ فَکَذٰلِکَ ھٰھُنَا لٰکِنَّہٗ غَیْرُ مُقَدَّرٍ بِالثَّلٰثِ وَکَذٰلِکَ ھٰذَا فِی نَظَائِرِہٖ۔
ترجمہ:-اور یہ(بیع)نکاح کے برخلاف ہے،چنانچہ بالاجماع اقل واجب ہوگا،اس لئے کہ نکاح شرطِ فاسد سے فاسد نہیں ہوتا ہے،پس دونوں موافقتوں پر عمل کرنا ممکن ہوگا،اور اگر دونوں نے نکاح میں دنا نیر کو ذکر کیا،اور ان کی غرض دراہم ہے ،تو مہر ِمثل واجب ہوگا،اس لئے کہ نکاح بغیر تسمیہ کے درست ہے، برخلاف بیع کے ،اور اگر دونوں نے اصلِ نکاح کے بارے میں مذاق کیا،تو ہزل باطل ہے اور عقد لازم ہے،اور اسی طرح طلاق،عتاق اور قصاص کو معاف کرنا،اور یمین (تعلیق )اور نذر ہے،آپ علیہ السلام کے ارشاد کی وجہ سے کہ تین چیزیں ایسی ہیںکہ ان کی سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے اور ان کا مذاق بھی سنجیدگی ہے،نکاح اور طلاق اور یمین،اور اس لئے کہ مذاق کرنے والا سبب کو اختیار کرنے والا ہے،سبب پر راضی ہے نہ کہ اس کے حکم پر،اور ان اسباب کا حکم رد اور تراخی کا احتمال نہیں رکھتا ہے،کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہ(یعنی ان میں سے کوئی بھی) خیار شرط کا احتمال نہیں رکھتا ہے۔
اور بہرحال وہ عقد جس میں مال مقصود ہو، جیسے خلع،عتق علی المال،اور صلح عن دم العمد،پس امام محمد نے مبسوط کی کتاب الاکراہ میں خلع کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ طلاق واقع ہوجائے گی، اور مال لازم ہوگا،اور یہ حکم صاحبین کے نزدیک ہے ،اس لئے کہ ان کے نزدیک خلع خیارِ شرط کا احتمال نہیں رکھتا ہے،خواہ وہ اصلِ عقدکے بارے میں مذاق کریں،یابدلِ خلع کی مقدار کے بارے میں،یابدلِ خلع کی جنس کے بارے میں،تو صاحبین کے نزدیک مسمی واجب ہوگا،اور یہ بدلِ خلع اس چیز کے مانند ہوگیا جو فسخ کا احتمال نہیں رکھتا ہے تابع ہونے کی وجہ سے ،بہرحال امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک پس طلاق عورت کے اختیارپر موقوف رہے گی ہرحال میں،اس لئے کہ ہزل خیارِ شرط کے درجہ میں ہے،اور (جامع صغیرمیں)عورت کی جانب سے خیار ِشرط کے بارے میں امام ابوحنیفہؒ سے بصراحت مروی ہے کہ طلاق واقع نہ ہوگی،اور مال واجب نہ ہوگا،مگر یہ کہ عورت چاہے،تو طلاق واقع ہوگی اور مال واجب ہوگا،پس اسی طرح یہاں ،لیکن یہ خیار تین دن کے ساتھ مقدر نہیں ہے،اور اسی طرح یہ حکم واختلاف ہے اس کے نظائرمیں۔
------------------------------
تشریح :-مصنفؒ فرماتے ہیں کہ بیع کا مسئلہ جو ماقبل میں مذکورہوا، وہ مسئلہ ٔنکاح کے برخلاف ہے،چنانچہ نکاح میں اگر عاقدین نے مقدارِ مہر میں ہزل کیا کہ مہر ایک ہزار ہی ہوگامگر ہم لوگوں کے سامنے دوہزار کہیں گے، تو