ترجمہ:-اور رقیت غیرِ مال کی مالکیت کے منافی نہیںہے،اور غیر مال نکاح ،دم،اور حیات ہے،اور رقیت کمالِ حالت کے منافی ہے ان کرامتوں کے اہل ہونے میںجودنیا میں انسان کے لئے وضع کی گئی ہیں ، جیسے ذمہ ،ولایت اور حلت،یہانتک کہ رقیق کا ذمہ ضعیف ہے اس کے رقیق ہونے کی وجہ سے ،پس وہ ذمہ بذات خود دین کا متحمل نہیں ہوگا،اور ملادیاجائے گا اس ذمہ کی طرف مالیت ِ رقبہ اور کسب کو ،اور اسی طرح حلت آدھی ہوجاتی ہے رقیت کی وجہ سے،یہاں تک کہ غلام دوعورتوں سے نکاح کرے گا ،اور باندی کو دوطلاقیں دی جائیں گی،اور آدھی ہوجائے گی عدت،باری اور حد ،اور غلام کے نفس کی قیمت گھٹ جائے گی،اس لئے کہ غلام اہل ہے مال میں تصرف کا ،اورمال پر قبضہ کے استحقاق کا نہ کہ مال کے مالک ہونے کا،پس اس کے خون کے بدل کا آزاد کی دیت سے کم ہوناواجب ہوگا،مالکیت کی دوقسموں میں سے ایک میں نقصان کی وجہ سے ،جیسا کہ دیت آدھی ہوجاتی ہے ،انوثت کی وجہ سے ان دونوں میں سے ایک کے نہ ہونے کی وجہ سے،اور یہ ہمارے نزدیک ہے،اس لئے کہ ماذون تصرف کرتا ہے اپنے لیے،اور تصرف کا حکم اصلی __ اور وہ قبضہ ہے__ غلام ہی کے لئے ثابت ہوتا ہے ،اور مولی اس کا نائب ہے اس چیز کے حکم میں جو زوائد میں سے ہے ،اور وہ ملک ہے، جومشروع ہے قبضہ تک رسائی کے لئے ،اور اسی لئے ہم نے غلام کو ملک کے حکم میں اور بقائے اذن کے حکم میں مثل وکیل کے قرار دیاآقا کے مرض الموت کے مسائل میں اورماذون کے اکثر مسائل میں ۔
------------------------------
تشریح :-رقیت کا دوسرا حکم یہ ہے کہ رقیت غیرمال کی مالکیت کے منافی نہیں ہے یعنی غلام مال کے علاوہ دیگر چیزوں کا مالک ہوگا،جیسے نکاح غیرِمال ہے، لہٰذا غلام نکاح کرسکتا ہے ،کیونکہ فطری خواہش پوری کرنا شرعاً فرض ہے اور غلام کو باندی رکھنے کی اجازت نہیں ہے،لہٰذا نکاح کی صورت اس کے لئے متعین ہوگئی،البتہ نکاح کا نفاذمولی کی اجازت پر موقوف ہوگا،کیونکہ نکاح سے اس پر عورت کامہر واجب ہوگاجو غلام کے رقبہ سے متعلق ہوگا،یعنی مہرکی ادائیگی کے لئے غلام کوبیچنے کی بھی ضرورت پڑسکتی ہے جس میں مولی کا ضررہے ،اس لئے نکاح کا نفاذمولی کی اجازت پر ہوگا،اسی طرح غلام اپنے خون کامالک خود ہے کیونکہ انسان ہونے کی حیثیت سے وہ بھی زندہ رہنے کامستحق ہے ،اور خون کے تحفظ کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں ہے ،اسی لئے اس کا آقا بھی اس کی جان تلف کرنے کا حق نہیں رکھتا ہے ،اور اگر غلام کسی کے قتل کا اقرار کرے تو اس پر قصاص آئے گا کیونکہ خون کے معاملہ میں غلام آزاد کے مشابہ ہے۔
ا لبتہ رقیت ان کمالات کے حاصل ہونے کے منافی ہے، جن کو شرف واعزار کی اہلیت میں دخل ہے،یعنی وہ اعزاز وشرف جو دنیا میں انسان کو حاصل ہوتا ہے ،وہ کامل شرف غلام کو نہیں ملتااور وہ تین چیزیں ہیں (۱)ذمہ (۲) ولایت (۳)حلت ہر انسان کو ذمہ عطا کیاگیا ہے جس سے وہ اس کااہل ہے کہ وہ دوسروں پر کوئی چیز واجب کرے اور