ہوا،اور علت العلۃ علت کے حکم میں ہوتا ہے ،اور علت کا تقاضا یہ ہے کہ حکم (طلاق)معدوم ہواس لئے کہ نکاح نہیں ہے جو علت ہے تو حکم بھی نہ ہوگا کیونکہ حکم علت سے پہلے موجود نہیں ہوتا،اور جب حکم معدوم ہے تو یہ عدم محل کا تقاضاکرتا ہے ،اور چونکہ یہ تعلیق ہے اس لئے اس کا تقاضایہ ہے کہ سبب ِمجازی ہو جس کو سبب حقیقی کے ساتھ مشابہت ہے ، تو اس کا تقاضہ یہ ہے کہ محل باقی ہو تو علت کا تقاضہ سبب ِ مجازی (جومشابہ حقیقت ہے) کے تقاضے سے معارض ہوا، اس طرح کہ شرط (ان نکحت ) کا علت کے حکم میں ہونا عدمِ محل کا تقاضا کرتا ہے ،اور سبب ِمجازی میں جو شبہ تحققِ شرط سے پہلے ہے یعنی تحقق شرط سے پہلے ثبوت ِسببیت ،اس کا تقاضا ہے کہ محل موجود ہو،جب دونوںکے تقاضوں میں تعارض ہوگیا ،تو شبہ ِحقیقت کا اعتبار ساقط ہوجائے گا اور وجودِ محل کی شرط نہ ہوگی، اور تعلیق علی حالہ باقی رہے گی ،پھر جب شرط (نکاح)پائی جائے گی تو طلاق واقع ہوجائے گی،خلاصہ یہ کہ امام زفرؒکا زیر بحث مسئلہ کو’’ اِن نکحتکِ فانت طالق ‘‘پر قیاس کرنا درست نہیں ہے کیونکہ یہ سبب کو علت پر قیاس کرنا ہے۔بر خلاف تعلیق بالشرط کے کہ وہ حقیقی سبب کے مشابہ ہونے کی وجہ سے محل کا تقاضہ کرتی ہے ، اور تعلیق کے بعد تنجیزاً تین طلاقیں دے دی تو محل فوت ہوگیا اور محل کے فوت ہونے سے تعلیق ہی باطل ہوجائے گی ، لہٰذا امام زفر کا تعلیق بالشرط کا تعلیق بالملک پر قیاس درست نہیں ، دونوں میں بہت بڑا فرق ہے ۔
وَاَمَّا الْعِلَّۃُ فَھِیَ فِی الشَّرِیْعَۃِ عِبَارَۃٌ عَمَّا یُضَافُ اِلَیْہِ وُجُوْبُ الْحُکْمُ اِبْتَدَاءً وَذٰلِکَ مِثْلُ الْبَیْعِ لِلْمِلْکِ وَالنِّکَاحِ لِلْحِلِّ وَالْقَتْلِ لِلْقِصَاصِ وَلَیْسَ مِنْ صِفَۃِ الْعِلَّۃِ الْحَقِیْقِیَّۃِ تَقَدَّمُھَاعَلَی الْحُکْمِِ بَلِ الْوَاجِبُ اِقْتِرَانُھُمَا مَعًاوَذٰلِکَ کَالْاِسْتِطَاعَۃِ مَعَ الْفِعْلِ عِنْدَنَا فَاِذَا تَرَاخٰی الْحُکْمُ لِمَانِعٍ کَمَا فِی الْبَیْعِ الْمَوْقُوْفِ وَالْبَیْعِ بِشَرْطِ الْخِیَارِ کَانَ عِلَّۃً اِسْمًا وَمَعْنًی لَاحُکْمًا وَدَلَالَۃُ کَوْنِہٖ عِلَّۃً لَا سَبَبًا اَنَّ الْمَانِعَ اِذَازَالَ وَجَبَ الْحُکْمُ بِہٖ مِنَ الْاَصَلِ حَتّٰی یَسْتَحِقَّہٗ الْمُشْتَرِی بِزَوَا ئِدِہٖ وَکَذٰلِک عَقْدُ الْاِجَارَۃِ عِلَّۃٌ اِسْمًا وَمَعْنًا لَاحُکُمًا وَلِھٰذَا صَحَّ تَعْجِیْلُ الْاُجُرَۃِ لٰکِنَّہٗ یَشْبَہُ الْاَسْبَابَ لِمَا فِیْہِ مِنْ مَعْنَی الْاِضَافَۃِ حَتّٰی لَا یَسْتَنِدَ حُکْمُہٗ وَکَذٰلِکَ کُلُّ اِیْجَابٍ مُضَابٍ اِلٰی وَقْتٍ عِلَّۃٌ اِسْمًا وَمَعْنًی لَاحُکْمًا لٰکِنَّہٗ یَشْبَہُ الْاَسْبَابَ
ترجمہ:-اور بہر حال علت پس وہ شریعت میں نام ہے اس چیز کا جس کی طرف حکم ابتداء ً منسوب کیاجاتا ہے، اور