وَاِذَا ثَبَتَ اَنَّ خَبَرَالْوَاحِدِ حُجَّۃٌ قُلْنَا اِنْ کَانَ الرَّاوِیُ مَعْرُوفًا بِالْفِقْہِ وَالتَّقَدُّمِ فِی الْاِجْتِھَادِ کَالْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِیْنَ وَالْعَبَادِلَۃِ الثَّلٰثَۃِ وَزَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَاَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیْ وَعَائِشَۃَ رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْنَ وَغَیْرِھِمْ مِمَّنْ اِشْتَھَرَ بِالْفِقْہِ وَالنَّظْرِکَانَ حَدِیْثُھُمْ حُجَّۃً یُتْرَکُ بِہِ الْقِیَاسُ وَاِنْ کَانَ الرَّاوِیْ مَعْرُوْفًا بِالْعَدَالَۃِ وَالْحِفْظِ وَالضَّبْطِ دُوْنَ الْفِقْہِ مِثْلُ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَاَنَسِ بْنِ مَالِکِؓ فَاِنْ وَافَقَ حَدِیْثُہٗ الْقِیَاسَ عُمِلَ بِہٖ وَاِنْ خَالَفَہٗ لَمْ یُتْرَکْ اِلَّا لِلضَّرُوْرَۃِ وَاِنْسِدَادِ بَابِ الرَّأیِ وَذٰلِکَ مِثْلُ حَدِیْثِ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ فِی الْمُصَرَّاۃِ۔
ترجمہ:-اور جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ خبر واحد حجت ہے تو ہم کہیں گے کہ اگر راوی معروف ہو فقہ کے ساتھ اور اجتہاد میں تقدم حاصل ہونے کے ساتھ جیسے خلفاء راشدین اور تینوں عبداللہ، اور زید بن ثابت اور معاذ بن جبل اور ابو موسی اشعری اور عائشہ رضوان اللہ علیہم اجمعین، اور ان کے علاوہ ان لوگوں میں سے جو فقہ ونظر کے ساتھ مشہور ہیں ،تو ان کی حدیث حجت ہوگی جس کی وجہ سے قیاس کو چھوڑدیا جائے گا۔
اور اگر راوی عدالت ، حفظ اور ضبط کے ساتھ معروف ہونہ کہ فقہ کے ساتھ جیسے ابوہریرہ، اور انس بن مالک پس اگر ان کی حدیث قیاس کے موافق ہوتو اس پر عمل کیا جائے گا اور اگر قیاس کے خلاف ہو تو ترک نہیں کیا جائے گا مگر ضرورت کی وجہ سے اور رائے وقیاس کے دروازے کے بند ہونے کی وجہ سے اور وہ جیسے ابوہریرہ کی حدیث ہے مُصَرَّاۃ کے سلسلہ میں۔
------------------------------
تشریح:-مصنفؒ روایت پر کلام سے فارغ ہوکر اب راوی پر گفتگو کررہے ہیں ،فرماتے ہیں کہ راوی یا تو معروف ہوگا یا مجہول ،اگر معروف ہے تو اس کی دو قسمیں ہیں ، معروف بالفقہ ہے یا معروف بالعدالت ہے، اور اگر مجہول ہے تو اس کی پانچ قسمیں ہیں ، مصنف اس کو آگے بیان کررہے ہیں بہر حال پہلی قسم یعنی راوی ( صحابی) اگر فقہ میں مشہور ہواور اجتہاد کی وجہ سے اس کو دوسرے صحابہ پر فوقیت حاصل ہو اور ان کے علاوہ جو فقہ اور نظر وفکر میں مشہور ہوگئے ہوں جیسے خلفاء راشدین ، تینوں عبداللہ،عبداللہ بن عمر، عبد اللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس، بعض کے نزدیک عبداللہ بن مسعود کی جگہ عبداللہ بن زبیر ہیں، بعض کہتے ہیں کہ عبداللہ چار ہیں، عبداللہ بن عمر ، عبداللہ بن زبیر، عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمروبن العاص، رضوان اللہ علیہم اجمعین، اسی طرح زید بن ثابت ، ابوموسی اشعری ، معاذبن جبل اور حضرت عائشہ رضوان اللہ علیہم اجمعین یہ تمام صحابہ فقہ میں بھی معروف ہیں اور اجتہاد میں بھی سب پر فائق