مہمانی سے اعراض ہے، بعد میں قضا کرلینا ، لیکن نذر تو اس کی صحیح ہوجائے گی۔
وَوَقْتُ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَدُلُوْکِہَا صَحِیْحٌ بِاَصْلِہٖ فَاسِدٌ بِوَصْفِہٖ وَھُوَاَنَّہٗ مَنْسُوْبٌ اِلَی الشَّیْطَانِ کَمَاجَائَتْ بِہٖ السُّنَّۃُ اِلَّااَنَّ اَصْلَ الصَّلٰوۃِ لَایُوْجَدُ بِالْوَقْتِ لِاَنَّہٗ ظَرْفُہَا لَامِعْیَارُھَا وَھُوَ سَبَبُھَا فَصَارَتْ الصَّلٰوۃُ فِیْہِ نَاقِصَۃً لَّافَاسِدَۃً فَقِیْلَ لَایَتَاَدّٰی بِھَاالْکَامِلُ وَیَضْمَنُ بِالشُّروْعِ وَالصَّوْمُ یَقُوْمُ بِالْوَقْتِ وَیُعَرَّفُ بِہٖ فَاِزْدَادَ الْاَثَرُ فَصَارَ فَاسِدًا فَلَمْ یَضْمَنْ بِالشُّرُوْعِ۔
ترجمہ:-اور طلوع شمس اور غروب شمس کا وقت صحیح ہے اپنی اصل کے اعتبار سے، اور فاسد ہے اپنے وصف کے اعتبار سے، اور وہ وصف یہ ہے کہ یہ وقت شیطان کی طرف منسوب ہے، جیسا کہ اس پر حدیث وارد ہوئی ہے، مگر یہ کہ اصل ِصلوۃ وقت کے ساتھ نہیں پائی جاتی اس لئے کہ وقت نماز کا ظرف ہے نہ کہ اس کا معیار ، اور یہ وقت نماز کا سبب ہے تو نماز اس وقت میں ناقص ہوگی نہ کہ فاسد، پس کہا گیا کہ ان اوقاتِ مکروہ میں واجب کامل ادا نہیں ہوگا اورشروع کرنے سے ضامن ہوگا، اور روزہ وقت کے ساتھ قائم ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ پہنچانا جاتا ہے ،تو وقت کا اثر روزہ میں زیادہ ہوگیا، تو روزہ فاسد ہوگا پس نہیں ضامن ہوگا شروع کرنے سے۔
------------------------------
تشریح:-مصنفؒ فرماتے ہیں کہ جیسے یوم النحر کا روزہ اپنی اصل کے لحاظ سے مشروع ہے، اور وصف کے لحاظ کے غیر مشروع ہے ،اسی طرح طلوع، غروب اور زوالِ شمس کا وقت بھی اپنی اصل کے اعتبار سے صحیح ہے، جیسے ان تین اوقات کے علاوہ وقت نماز کے لئے ظرف بنتا ہے اور عبادت کی صلاحیت رکھتا ہے ،اس طرح مکروہ وقت بھی نماز کے لئے ظرف اور صالح للعبادۃ ہے__ لیکن ان میں فساد وصف کی وجہ سے آیا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ اوقات شیطان کی طرف منسوب ہیں، حدیث میں ہے کہ طلوع شمس کے وقت نماز نہ پڑھو، سورج شیطان کے دو قرنوں(سینگوں) کے درمیان طلوع ہوتا ہے، جب آفتاب بلند ہوجاتاہے تو شیطان ہٹ جاتا ہے، استواء کے وقت شیطان پھر مقارن ہوجاتا ہے، زوال کے بعد ہٹ جاتا ہے، پھر غروب کے وقت مقارن ہوجاتا ہے__ اس کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ شیطان آفتاب کے مقابل ہوجاتا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ آفتاب پرست بجائے سورج کے شیطان کی عبادت کرتے ہیں __کلام کو مجاز پر محمول کرنے کی صورت میں معنی یہ ہیں کہ شیطان ان اوقات میں آفتاب کی پرستش پر آمادہ کرتا ہے __تو ان اوقات کے شیطان کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے وقت فاسد ہے، اس لئے ان اوقات میں نماز ناقص ہوگی، فاسد نہ ہوگی۔