------------------------------
تشریح:-جب ماقبل میں ضابطہ معلوم ہوگیا کہ افعالِ شرعیہ پر جب نہی وارد ہوتی ہے، تو احناف کے نزدیک منہی عنہ اپنی اصل کے لحاظ مشروع اور وصف کے لحاظ سے غیرمشروع رہتا ہے، تو مصنف اس پر جزئیات پیش کررہے ہیں۔
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ جب بیع میں شراب کو ثمن بنایا، تو بیع فاسد ہوگی، باطل نہ ہوگی، فاسد ہونے کا مطلب یہ کہ اصل میں مشروع ہوگی وصف کے اعتبار سے غیرمشروع ہوگی __ کیونکہ بیع کا رکن مبادلۃ المال بالمال بالتراضیموجود ہے، کیونکہ شراب بھی مال ہے، بیع کا محل ہے، لہٰذا اصلًا تو مشروع ہوگی، مگر چونکہ شراب مسلمان کے حق میں مال متقوم نہیں ہے (مال متقوم اس کو کہتے ہیں کہ جس کے عین یا قیمت سے نفع اٹھانا جائز ہو) اس لئے خمرمسلمان کے حق میں مال نہ ہوا، تو من وجہ خمر ثمن بن سکتا ہے، اور من وجہ نہیں بن سکتا، اور ثمن بیع میں بمنزلہ وصف کے ہوتا ہے، اصل مقصود نہیں ہوتاہے، اصل مقصود مبیع ہوتی ہے، ثمن اس کے حاصل کرنے کا وسیلہ ہوتا ہے، اس لئے یہ بیع اپنی اصل کے لحاظ سے مشروع ہوگی اور وصف کے لحاظ سے غیر مشروع ہوگی، لہٰذا یہ بیع فاسد کہلائے گی اور مقصود بیع یعنی مبیع میں خلل نہیں ہے، اس لئے باطل نہ ہوگی، لہٰذا یہ بیع ِفاسد قبضہ کے بعد مفید ِملک ہوگی۔
دوسرا مسئلہ بیع ربٰو اصل کے لحاظ سے مشروع ہے، وصف کے لحاظ سے غیر مشروع ہے، پس اگر کوئی دوسوگرام چاندی کو تین سوگرام چاندی کے عوض بیچے تو یہ بیع ربٰو ہے، یہ بیع اصلًا صحیح ہے کیونکہ مبادلۃ المال بالمال بالتراضیہے اور دونوں طرف عوض ہیں، اور وصف کے لحاظ سے غیر مشروع ہے، کیونکہ ایک طرف عوض میں زیادتی ہے، وہ زیادتی مزید علیہ کے لئے بمنزلہ وصف ہوتی ہے ،تو اس زیادتی کی وجہ سے مساوات فوت ہوگئی، لہٰذا یہ بیع فاسد ہوگی باطل نہ ہوگی، اگر بیع ہوگئی تو قبضہ کے بعد مفید ِملک ہوگی۔
اسی طرح شرط فاسد بھی بیع ربٰو کی طرح ہے، شرطِ فاسد اس شرط کو کہتے ہیں جس کابیع تقاضا نہ کرتی ہو، جیسے مکان بیچا اس شرط کے ساتھ کہ ایک سال میں(بائع)رہوں گا تو شرطِ فاسد کے باوجود رکن ِبیع موجود ہے تو اصلًا بیع صحیح ہوگی، اور شرطِ فاسد جو بمنزلہ وصف کے ہے، اس لئے وصف کے لحاظ سے بیع غیر مشروع ہے، لہٰذا یہ بیع بھی فاسد کہلائے گی، باطل نہ کہلائے گی۔
وَکَذٰلِکَ صَوْمُ یَوْمِ النَّحْرِ مَشْرُوْعٌ بِاَصْلِہٖ وَھُوَالْاِمْسَاکُ لِلّٰہِ تَعَالٰی فِیْ وَقْتِہٖ غَیْرُمَشْرُوْعٍ بِوَصْفِہٖ وَھُوَ الْاِعْرَاضُ عَنِ الضِّیَافَۃِ الْمَوْضُوْعَۃِ فِیْ ھٰذَالْوَقْتِ بِالصَّوْمِ اَلَایَریٰ اَنَّ الصَّوْمَ یَقُوْمُ بِالْوَقْتِ وَلَا خَلَلَ فِیْہِ وَالنَّھْیُ یَتَعَلَّقُ بِوَصْفِہٖ وَھُوَاَنَّہٗ یَوْمُ عِیْدٍ فَصَارَ فَاسِدًا وَلِھٰذَا یَصِحُّ النَّذْرُبِہٖ عِنْدَنَا لِاَنَّہٗ نَذَرٌ بِالطَّاعَۃِ