ہے، جیسے زکوۃ، روزہ اور حج، زکوۃ میں بظاہر کوئی حسن نہیں ہے کیونکہ زکوۃ میں مال کو ضائع کرنا ہے ، مگر اس سے فقیر کی حاجت دفع ہوتی ہے، اور یہ اچھی چیز ہے تو اس کی وجہ سے زکوۃ میں حسن آیا، اور یہ واسطہ یعنی فقیر کی حاجت اللہ نے پیدا کی ہے، فقیر کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔
اسی طرح روزہ بظاہر نفس کو بھوکا رکھنا ہے، اس میں کوئی حسن نہیںہے، البتہ اس سے نفس ِامارہ مغلوب ہوتا ہے اس واسطہ سے حسن آیا __ اور یہ واسطہ یعنی نفس کی عداوت اللہ نے پیدا کی ہے، بندہ کا کوئی دخل نہیں ہے۔
اسی طرح حج بظاہر لمبا سفر کرنا، اپنے آپ کو تھکانا ، متفرق مقامات کو دیکھنا ہے جس میں کوئی خوبی نہیںہے، البتہ حج میں مکان کے شرف یعنی بیت اللہ کے شرف کے سبب حسن آیا اور یہ واسطہ اللہ کے پیدا کرنے سے ہے بندہ کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔
الغرض زکوۃ، روزہ اور حج میں حسن ایک واسطہ سے آیاہے، اور تینوں جگہ وہ واسطہ اللہ کے پیدا کرنے سے ہوا ہے اور وہ واسطہ اللہ کی طرف ہی منسوب ہے، بندہ کا کوئی دخل نہیں ہے تو گویا وہ واسطہ درمیان میں ہے ہی نہیں، لہٰذا زکوۃ، روزہ اور حج بھی قسم اول یعنی حسن لعینہ بالذات کے ساتھ ملحق ہوگئے، اسی لئے مصنفؒ نے کہا وماالتحق بواسطۃ بماکان المعنی فی وضعہ__ اور دوسری قسم وہ ہے جو واسطہ کے ساتھ ملحق ہو اسی(پہلی قسم) کے ساتھ جس کی ذات میں وہ معنی ہے۔
وَحُکْمُ ھٰذَیْنِ النَّوْعَیْنِ وَاحِدٌ وَھُوَاَنّ الْوُجُوْبَ مَتٰی ثَبَتَ لَایَسْقُطُ اِلَّابِفِعْلِ الْوَاجِبِ اَوْبِاِعْتِرَاضِ مَایُسْقِطُہٗ بِعَیْنِہٖ وَالَّذِیْ حَسَنٌ لِمَعْنًی فِیْ غَیْرِہٖ نَوْعَانِ مَایَحْصُلُُ الْمَعْنٰی بَعْدَہٗ بِفِعْلٍ مَقْصُوْدٍ کَالْوُضُوْءِ وَالسَّعِیْ اِلَی الْجُمْعَۃِ وَمَا یَحْصُلُ الْمَعْنٰی بِفِعْلِ الْمَامُوْرِبِہٖ کَالصَّلٰوۃِعَلَی الْمَیِّتِ وَالْجِھَادِ وَاِقَامَۃِ الْحُدُوْدِ فَاِنَّ مَافِیْہِ الْحُسْنُ مِنْ قَضَاءِ حَقِّ الْمُسْلِمِ وَکَبْتِ اَعْدَآءِ اللہِ تَعَالٰی وَالزَّجْرِعَنِ الْمَعَاصِیْ یَحْصُلُ بِنَفْسِ الْفِعْلِ وَحُکْمُ ھٰذَیْنِ النَّوْعَیْنِ وَاحِدٌ اَیْضًا وَھُوَ بَقَاءُ الْوَاجِبِ بِوُجُوْبِ الْغَیْرِ وَسُقُوْطُہٗ بِسُقُوْطِ الْغَیْرِ۔
ترجمہ:- اور ان دونوں قسموں کاحکم ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ واجب جب ثابت ہوجائے گا تو وہ ساقط نہ ہوگا مگر واجب کو ادا کرنے سے ،یا اس عارض کے پیش آنے سے جو بذاتِ خود واجب کو ساقط کردے، اور وہ مامور بہ جو حسن ہے ایسے معنی کی وجہ سے جو اس کے غیر میں ہے دو قسم پر ہے،(۱) ایک یہ کہ وہ معنی اس (ماموربہ کو کرنے) کے بعد فعل ِ