بہرحال جب منصوص علیہ میں یہ بات ثابت ہوگئی کہ قضا اسی سبب سے ہے جس سبب سے ادا ہے اور یہ دونوں باتیں کہ مثل پر قادر ہونے کی وجہ سے اصل واجب کا باقی رہنا اور وقت کی فضیلت کا عاجز ہونے کی وجہ سے ساقط ہوجانا ، منصوص علیہ یعنی نماز ،روزہ میں امر معقول ہے تو یہ حکم ان چیزوں کی طرف بھی متعدی ہوگا جن میں نص وارد نہیں ہوئی ہے ، جیسے نماز روزہ اور اعتکاف کی نذر معین کہ ان میں ادا ولیوفوانذروھم سے واجب ہوتی ہے اور قضا کے لئے کوئی نص نہیں ہے،لہٰذا ان کو بھی منصوص علیہ پر قیاس کرینگے ،اور یہاں بھی وہی حکم متعدی ہوگا کہ جو وجوب ادا کا سبب ہے وہی قضا کا سبب ہے ، چونکہ دونوں عبادتیں ہیں۔
سوال:-آپ نے نذ رمعین کے اعتکاف ،نذرکاروزہ اور نماز کو منصوص علیہ یعنی نماز روزہ پر قیاس کیا ،اور قیاس سے نذر معین کی قضا کو ثابت کیا تو قیاس تو خود ایک سبب ہے لہٰذا قضا کے لئے سبب جدید پایا گیا
جواب:-قیاس مُظْہرِ حکم ہوتا ہے ،مُثبِتِ حکم نہیں ہوتا ہے، لہٰذا نذر معین میں قضا کا سبب تو وہی نص ہے جو ادا کا سبب ہے،البتہ اس کا اظہار قیاس سے ہوا ہے۔
وَفِیْمَا اِذَا نَذَرَ اَنْ یَّعْتَکِفَ شَھْرَ رَمَضَانَ فَصَامَ وَلَمْ یَعْتَکِفْ اِنَّمَا وَجَبَ الْقَضَاءُ بِصَومٍ مَّقْصُوْد لِاَنَّہٗ لَمَّا اِنْفَصَلَ الْاَعْتَکَافُ عَنْ صَوْمِ الْوَقْتِ عَادَ شَرْطُہٗ اِلَی الْکَمَالِ الْاَصْلِیِّ لَالِاَنَّ الْقَضَاءَ وَجَبَ بِسَبَبٍ اٰخَرَ
ترجمہ:-اور اس صورت میں کہ جب نذر مانی یہ کہ وہ اعتکاف کرے گا رمضان کے مہینہ میں ،پس اس نے روزے رکھے اور اعتکاف نہیں کیا ،تو قضا واجب ہوگی صوم ِمقصود سے، اس لئے کہ جب اعتکاف جدا ہوگیا وقت کے روزے سے تو اس کی شرط کمالِ اصلی کی طرف لوٹ آئی، نہ اس وجہ سے کہ قضا واجب ہوئی دوسرے سبب سے۔
------------------------------
تشریح:-احناف پر ایک اعتراض ہورہا ہے ،کہ اگر کسی نے نذر مانی کہ رمضان میں اعتکاف کرونگا پھر ہوا یہ کہ اس نے روزے تو رکھ لئے مگر کسی عذر سے اعتکاف نہ کرسکا ،تو اب یہ اس اعتکاف کی قضا آئندہ رمضان میں نہیں کرسکتا ہے، بلکہ غیر رمضان میں صوم مقصود یعنی نفلی روزے رکھ کر اعتکاف واجب ہوگا__ تو اس سے معلوم ہوا کہ قضا کا سبب وہ نہیں ہے جو ادا کا سبب ہے کیونکہ اگر وہی سبب ہوتا تو دوسرے رمضان میں اعتکاف کی قضا درست ہوتی جیسے پہلے رمضان میں اعتکاف کی ادا درست ہے،یا پھر امام زفر کا قول اختیار کیجئے کہ رمضان ثانی میں ان کے نزدیک اعتکاف درست ہے،یا امام ابو یوسف کا قول اختیار کریں کہ ان کے نزدیک اعتکاف کی قضا ہی ساقط ہوجاتی ہے ،اور آپ کے نزدیک یہ دونوں باتیں نہیں ہیں،بلکہ آپ غیر رمضان میں نفلی روزے سے اعتکاف واجب کرتے ہیں،اس سے تو