تحفہ رمضان - فضائل و مسائل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
دعاء وآداب دعاء ((اَلدُّعَائُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ)) [رواہ الترمذی ص ۱۷۳ ج۲] ہر کام کو طریقہ ہی سے کرنا چاہئے پھر کامیابی بہت قریب ہو جاتی ہے کسی نے خوب کہا ہے جو مانگنے کا طریقہ ہے اس طرح مانگو در کریم سے بندے کو کیا نہیں ملتا حدیث نمبر ترمذی میں ہے کہ جس شخص کے لئے دعا کے دروازے کھول دیئے گئے اس کے لئے گویا رحمت کے (بہت سے) دروازے کھولے گئے۔ حدیث نمبر ! جمع الفوائد میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آئو میں تمہیں ایسی چیز بتا دوں جو تمہیں تمہارے دشمنوں سے بھی نجات دلائے اور تمہاری روزی بھی بڑھائے وہ یہ ہے کہ تم رات دن میں (جس وقت یا جتنی بار مانگ سکو) اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجتیں مانگا کرو۔ (ادب نمبر ۱) کھانے پینے پہننے اور کمانے میں حرام سے بچنا۔ (ادب نمبر۲) اخلاص کے ساتھ دعا کرنا یعنی دل سے یہ سمجھنا کہ سوائے خدا تعالیٰ کے کوئی ہمارا مقصد پورا نہیں کر سکتا۔ [حاکم] (ادب نمبر ۳) دعا سے پہلے کوئی نیک کام کرنا اور بوقت دعاء اس کا اس طرح ذکر کرنا کہ یا اللہ میں نے آپ کی رضا کے لئے فلاں عمل کیا ہے آپ اس کی برکت سے میرا فلاں کام کر دیجئے۔ [مسلم وغیرہ] (ادب نمبر۴) پاک وصاف ہو کر دعا کرنا۔ (ادب نمبر ۵) وضو کرکے دعا کرنا۔ (ادب نمبر ۶) دعا کے وقت قبلہ رخ ہونا [صحاح ستہ] (ادب نمبر۷) دو زانو ہو کر بیٹھنا۔ (ادب نمبر ۸) دعا کے اول و آخر میں حق تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنا۔ (ادب نمبر ۹)