تحفہ رمضان - فضائل و مسائل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
((لَایَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرِ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ)) [رواہ البخاری و مسلم] ’’جب تک میری امت کے لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے وہ خیر پر رہیں گے۔‘‘ حدیث حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ((لاَ تَزَالُ اُمَّتِیْ عَلٰی سُنَّتِیْ مَالَمْ تَنْتَظِرْ بِفِطْرِہَا النُّجُوْمَ)) ’’میرے امتی اس وقت تک میرے طریقہ پر رہیں گے جب تک وہ افطار کے لیے ستاروں کے چٹکنے کا انتظار نہ کریں (یعنی غروب کا یقین ہونے کے بعد ہی روزہ افطار کر لیا کریں)‘‘ جلدی افطار کرنے کی فضیلت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ((اَحَبُّ عِبَادِیْ اِلَیَّ اَعْجَلُھُمْ فِطْرًا)) [رواہ الترمذی‘ الترغیب ص۹۴] ’’ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اپنے بندوں میں مجھے وہ بندہ زیادہ محبوب ہے جو روزہ افطار کرنے میں جلدی کرے (یعنی غروب آفتاب کے بعد بالکل دیر نہ کرے)‘‘ تین چیزیں خدائے پاک کو پسند ہیں حدیث حضرت یعلٰی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ((ثَلَاثَۃٌ یُحِبُّھَا اللّٰہُ تَعْجِیْلُ الْاِفْطَارِ وَتَاخِیْرُ السُّحُوْرِ وَضَرَبُ الْیَدَیْنِ اَحَدُھَا عَلَی الْاُخْرٰی فِی الصَّلٰوۃِ)) [رواہ الطبرانی] ’’اللہ پاک کو تین چیزیں پسند ہیں: غروب آفتاب ہوتے ہی فوراً افطار کرنا۔ ! اخیر وقت تک سحری موخر کرنا۔ " نماز میں (بحالت قیام) ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پررکھنا۔‘‘ افطار میں تاخیر کرنا یہود و نصاریٰ کا کام ہے۔ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ((قَالَ لاَیَزَالُ الدِّیْنُ ظَاہِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ لِاَنَّ الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارٰی یُؤَخِّرُوْنَ اَرْوًا)) ’’دین (اسلام) غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے اس لیے کہ یہود و نصاریٰ( افطار کرنے میں) تاخیر کرتے ہیں۔‘‘ تعجیل افطار میں کیا راز ہے؟