تحفہ رمضان - فضائل و مسائل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
فاسد کرنے والا ہے جیسے کھانے کا لقمہ نماز کو فاسد کر دیتا ہے۔ اور ایک جگہ تو شبینہ میں قرآن ختم ہونے سے پہلے صبح ہو گئی اور صبح صادق کے بعد کاذبین (جھوٹے لوگوں) نے شبینہ پورا کیا الغرض گڑ بڑ کی وجہ سے میں نے شبینہ کی مخالفت کی‘ باقی جن مقامات پر لوگوں کو قرآن سننے کا شوق ہے اور دیگر منکرات و مفاسد بھی نہیں پائے جاتے وہاں میں شبینہ کو منع نہیں کرتا۔ (منکرات و مفاسد کی تفصیل آگے آ رہی ہے) [علم الصنوف] مروجہ شبینہ کے منکرات و مفاسد اور ان کا شرعی حکم بعض لوگ ایک ہی شب میں ختم کرتے ہیں جسے شبینہ کہتے ہیں اس میں کئی بدعتیں (اور مفاسد) ہیں۔ غور کرکے دیکھ لیجئے کہ اس میں نیت صرف نمود (دکھلاوے) کی ہوتی ہے‘ کیا امام اور کیا مہتمم (یعنی انتظام کرنے والے) اور کیا سامعین (سب ہی کا ایک حال ہے) امام تو داد ملنے کے امیدوار رہتے ہیں کہ جہاں سلام پھیرا اور لوگوں نے منہ پر تعریف کر دی تو خوش ہو گئے ورنہ پڑھا بھی نہیں جاتا۔ حدیث شریف میں منہ پر تعریف کرنے والے کے لئے حکم ہے کہ اس کے منہ میں خاک جھونک دو‘ اور امام صاحب کے قلب پر بھی تعریف کا اثر ہوتا ہی ہے اور اسی تعریف کی وجہ سے تو بعض امام لقمہ بھی نہیں لیتے‘ محض اس وجہ سے کہ لوگ کہیں گے کہ اچھا یاد نہیں۔ ! اور مہتمم (یعنی انتظام کرنے والے) حضرات تو شبینہ میں شامل ہی نہیں ہوتے‘ ان کو چائے پانی کے انتظام ہی سے فرصت نہیں ہوتی میں پوچھتا ہوں کہ شبینہ سے چائے پانی مقصود ہے قرأت و سماعت (یعنی سننا اور پڑھنا) البتہ چائے سے سننے اور پڑھنے میں مدد مل جاتی ہے مگر یہ چیزیں جب اصل مقصود میں خلل انداز ہوں تو پھر ذریعہ کہاں رہا (گویا چائے پانی ہی کو مقصود بنا لیا) اور یہ بھی جانے دیجئے منتظمین حضرات کو تو یہ ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے کہ ہمارے یہاں فلاں مسجد سے اچھا انتظام رہا۔ بس چائے پانی اچھا رہا مگر اصلی شئے تو اچھی نہیں رہی۔ " اور رہے سامعین تو انصاف سے بتلایئے کہ وہ قرآن شریف سننے کے لئے آتے ہیں یا نماز کے ساتھ دل لگی کرنے کو۔ کچھ کھڑے ہیں کچھ بیٹھے ہیں‘ کچھ کبھی کھڑے ہو جاتے ہیں کبھی بیٹھ جاتے ہیں‘ گڑ بڑ ہوتی ہے‘ کبھی کچھ لوگ بیٹھ بھی نہ سکے تو نیت توڑ کر لیٹے لیٹے سن رہے ہیں‘ بے چارے کریں بھی کیا‘ گھنٹوں تک کیسے کھڑے رہ سکتے ہیں اور بعض لوگ جو اپنے اوپر جبر کرکے کھڑے بھی رہتے ہیں تو امام کی غلطیوں کو چھوڑتے جاتے ہیں وہ خواہ کیسی ہی غلطی کرتا چلا جائے بتلا نہیں سکتے کیوں کہ حرج ہو گا‘ اور قرآن شریف ختم سے رہ جائے گا۔ اور بعض لوگ تو یہ غضب کرتے ہیں کہ خارج صلوٰۃ لقمہ دیئے چلے جاتے ہیں‘ اس صورت میں اگر امام نے لقمہ لے لیا تو سب کی نماز فاسد ہو جائے گی اور گھنٹوں کی محنت ضائع ہو گی۔ # بعض حافظ اپنا اپنا پڑھنے کے بعد شبیہ سنانے والے کو مغالطہ دینے آتے ہیں (اور خواہ مخواہ لقمہ دینے کی کوشش کرتے ہیں) کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ سننے کے لئے آئے ہیں۔