تحفہ رمضان - فضائل و مسائل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ہے؟
جواب: اگر وہ خوبصورت ہے اور اس کو شہوت کی نگاہ سے لوگوں کے دیکھنے کا احتمال ہے تب تو وہ اگر حافظ یا طالب علم ہو تب بھی مکروہ ہے اور اگر یہ بات نہیں ہے صرف عوام کی ناپسندیدگی ہے تو اگر وہ سب مقتدیوں سے علم قرآن میں اچھا ہے تو اس کی امامت مکروہ نہیں۔ اور اگر اتنی عمر ہو گئی ہے کہ اب داڑھی بھرنے کی امید نہیں رہی تو وہ امرد نہیں رہا (اور اس کی امامت بھی مکروہ نہیں خواہ داڑھی کا ایک بال بھی نہ ہو) [امداد الفتاویٰ]
سب رکعتیں برابرہونا چاہئے
عام طور پر حافظوں کی یہ بھی عادت ہوتی ہے کہ شروع کی رکعتوںمیں بہت کھینچتے ہیں اورآخر کی رکعتوں میں دو دو تین تین آیتیں پڑھتے ہیں۔ یاد رکھو کہ سب رکعتیں اور رکوع سجدے متناسب (یعنی برابر) ہونے چاہئیں۔
حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز کے بارے میںآیا ہے:
((کَانَتْ صَلٰوۃُ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم قریبا من السواء)) [مسلم]
یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز معتدل ہوتی تھی اگر قیام طویل (لمبا) ہوتا تھا تو رکوع سجدہ بھی اس کے مناسب ہوتا تھا اور اب لوگ اس کے برعکس کرتے ہیں کہ قیام تو طویل کرتے ہیں اور رکوع سجدہ‘ قعدہ نہایت ہی مختصر‘ اس زمانہ میں تو پوری نماز مختصر پڑھنا چاہئے‘ اسی واسطے میں شبینہ بھی پسند نہیں کرتا۔ [التہذیب]
حدیث میں آیا ہے:
((اِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمَالُ)) [مسلم]
’’بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔‘‘
اہل اللہ اور مشائخ صفات حق کے ساتھ موصوف ہوتے ہیں اس لئے ان کو جمال یعنی تناسب ہر شے میں پسندیدہ ہوتا ہے ہم نے اپنے حضرات کو دیکھا ہے کہ نفاست اور تناسب ہر شئے کے اندر پسند کرتے تھے‘ تناسب تو ہر شئے میں بہتر ہے نماز کے اندر کیوں نہ ہو گا۔ [التہذیب]
سب رکعتیں برابر پڑھنا شرعاً پسندیدہ ہے
سب رکعتیں برابر برابر پڑھا کرو‘ یہ دیکھو کہ تم کو ہر شئے کے اندر تناسب اور حسن اچھا معلوم ہوتا ہے‘ نماز تو زیادہ اس کے لائق ہے کہ اس کو حسین کرو‘ دائود علیہ السلام لوہے کی زر ہیں بناتے تھے‘ ان کو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا:
{اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّقَدِّرْ فِی السَّرْدِ}
یعنی اے دائود پوری پوری زر ہیں بنائو اور اس کے بنانے میں اندازہ رکھو یعنی کڑیاں (اور اس کے حلقے) بڑے چھوٹے نہ ہوں۔ جب لوہے کی زرہوں میں تناسب کاحکم ہے تو اے صاحبو! نماز تو بہت بڑی شئے ہے اس میں تناسب کاکیوں نہ حکم ہو گا‘ اگر تمہاری طبیعت میں تناسب نہ ہو تو ذکر اللہ کی کثرت کیا کرو‘ اس سے طبیعت میں نفاست اور اعتدال پسندی پیدا ہو جائے گی اور ہر امر میں تناسب کی رعایت رکھنے لگو گے۔
دیکھئے جماعت کے اندر تناسب کا حکم ہے کہ صف سیدھی ہو‘ درمیان میں جگہ نہ چھوڑو‘ اور میں تو یہ کہتا ہوں کہ شریعت کا کوئی حکم ایسا نہیں کہ جس میں تناسب