تنبیہ
یہ اختلاف اس صورت میں ہے کہاس کو معذور ہونے کی حالت میں حج کی استطاعت حاصل ہوئی ہو۔ اگر صحت کی حالت میں حج فرض ہوچکا تھا اور پھر بیمار اورمعذور ہوگیا توبالا تفاق اس پر حج واجب ہے اور اس کو حج کرانا اور وصیت کرنی واجب ہے۔
(۲) اگر کوئی شخص قید میں ہے یا باد شاہ اس کو حج کوجانے سے منع کرتا ہے تواس پر خود حج کرنا واجب نہیں لیکن اگر حج کرنے کا موقع نہ ملا تو مرنے کے وقت حج بدل کرانے کی وصیت کرنا واجب ہے۔
مسئلہ: کسی شخص کاحق چاہتا ہ اوراس کی وجہ سے قید کر دیاگیا اورحج فرض ہے اور اس حق کے اداکرنے پر قدرت بھی ہے تو یہ حج کے لیے عذر نہ ہوگا۔ حج کرنا واجب ہوگا۔
(۳) مسئلہ: حج کے واجب ہونیکے تمام شرائط موجود ہیں لیکن راستہ مامون نہیں کسی ظالم کا خوف ہے یا کوئی درندہ ہے یا سمندر میں ڈوب جانے کا خوف ہے تو ایسی صورت میں حج کرنا واجب نہیں لیکن اگر راستہ نے تک مامون نہ ہوا تو حج بدل کی وصیت واجب ہوگی۔
مسئلہ: راستہ کے پر امن ہونے میں غالب اور اکثر کا اعتبار ہے اگر اکثر قافلے صحیح صلامت پہنچ جاتے ہیں اور بعض اتفاقیہ لٹ جاتے ہیں توراستہ مامون سمجھا جائے گا۔
مسئلہ: اگر سمندر میں اکثر جہاز ڈوب جاتے ہیں تو راستہ مامون نہیں سمجھا جائے گا اور اگر اکثر صحیح وسالم پہنچ جاتے ہیں تو راستہ مامون سمجھا جائے گا۔
مسئلہ: اگر کچھ رشوت دے کر راستہ میں امن مل جاتا ہے تو راستہ مامون سمجھا جائے گااور دفع ظلم کے لیے رسوت دینی جائز ہے دینے والاگنہگار نہ ہو گا لینے والا گنہگار ہوگا۔
۴) مسئلہ: عورت کے حج کرنے کے لیے کسی دیندار محرم یا شوہر کاہونا بھی شرط ہے اگر کوئی محرم موجود نہ ہویا ہے لیکن ساتھ جانے کو تیار نہیں اس طرح شوہر بھی ساتھ جانے کو تیار نہیںتو حج کو جانا واجب نہیں۔ اگر حج نہ کر سکی تو وصیت کرنی حج کرانے کی واجب ہوگی۔
مسئلہ: محرم وہ مرد ہے جس سے نکاح کسی وقت بھی جائز نہ ہو خواہ نسب کے اعتبار سے یعنی رشتہ دا رہو’ یار ضاعت یعنی دودھ کی شرکت کے اعتبار سے جیسے بھائی بہتیجے تایا’ چچا وغیرہ یا مصارف یعنی سسرالی رشتہ کی وجہ سے جیسے داماد اور خسر مگر اس زمانہ میں سسرالی رشتہ اور دودھ کے رشتہ سے احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ فتنہ کا زمانہ ہے اس لیے ان لوگوں کے ساتھ حج نہ کیا جائے۔
مسئلہ: محرم کا عاقل بالغ اور دیندار ہونا شرط ہے اسی طرح شوہر کے لیے بھی