نے پڑھا ہے اس کا ثواب فلاں شخص کو پہنچے قبر کے اوپر نہ بیٹھے نہ قبر کے اوپر چلے ۔
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں مستقل طور سے قیام کرنا
مسئلہ:مکہ مکرمہ میں قیام کرنے میں علماء کا اختلاف ہے امام اابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک مستحب ہے اسی پر لوگوں کا عمل ہے اور اسینپر فتوی ہے اور امام ابو حنیفہؒ اور امام مالک ؒمکروہ فرماتے ہیں کیونکہ مکہ مکرمہ میں رہ کر جیسی تعظیم اور توقیر ہونی چاہئے ویسی نہیں کر سکتا اور اس کا احترام اور آداب کما حقہ باقی نہیں رہ سکتا اور یوں تو گناہ کرنا ہر مقام میں برا ہے لیکن حرم محترم میں نہایت ہی قبیح ہے اسی وجہ سے عبد اللہؓ بن عباسؓ نے طائف میں قیام کیا اور فرمایا کرتے تھے اگر میں طائف میں پچاس گناہ کروں یہ مجھے مکہ میں ایک گناہ سے میرے نزدیک اچھے ہیں اور عبد اللہ بن مسعود ؓسے روایت ہے کہ کسی شھر میں صر ف ارادہ پر عمل کرنے سے مواخذہ نہیں ہوتا لیکن مکہ مکرمہ میں ارادہ پر بھی مواخزہ ہوتا ہے حق تعالی کا ارشاد ہے کہ ’’ومن یرد فیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم ‘‘ترجمہ:اور جو شخص اس میں کجروی کرنے کا ارادہ کرے شرارت سے تو ہم چکھائینگے اس کو درد ناک عذاب ،اس لیئے مکہ مکرمہ کا قیام گو برکات اور تضاعف اع۳مال کا باعث ہے لیکن جب ایسے بڑے بڑے لوگ اس کے آداب کی رعایت سے گھبراتے تھے تو ہم جیسوں کا تو کیا ہی کہنا جو شخص وہاں رہ کر پورا احترام کر سکتا ہو اس کیلئے بلا نزاع قیام مکہ مکرمہ افضل ہے مگر اس زمانے میں یہ بہت مشکل ہے اور مدینہ منور میں گو تضاعف سیئات کا خوف نہیں لیکن قلت ادب کا خوف ہے اور ایسی صورت میں وہاں کا قیام مکروہ ہے البتہ ادب واحترام کا خیال رکھتے ہوئے مدینہ منورہ کا قیام اور وہاں مرنا بڑی سعادت اور وسیلہ شفاعت اور نجات ہے صحیح مسلم میں ہے کہ جو شخص مدینہ منورہ کیتکلیف پر صبر کریگا تو میں قیامت کے روز اس کا شفیع ہونگا اور تر مذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس سے ہو سکے مدیہنہ منورہ میں مرے وہاں کے مرنے والوں کی میں ضرور شفاعت کرونگا ۔
مساجد مکہ مکرمہ ومنی وغیرہ